کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 332
اس کے خطبۂ صدارت میں مولانا سید داود غزنوی کے چچا زاد بھائی مولانا محمد اسماعیل غزنوی نے ملکی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے بصیرت افروز تبصرہ اس طرح فرمایا تھا: ’’حضرات! آج ملک میں مسائل ارد گرد بکھرے پڑے ہے اور ان میں سے اکثر کے سلجھاؤ کی صورت صرف یہ ہے کہ اس ملک میں اسلامی نظامِ حکومت قائم کیا جائے،مشرقی اور مغربی پاکستان کے دونوں بازوؤں کے اختلافات جو ہمارے سیاست دانوں کی عاقبت نااندیشی نے پیدا کر دیے ہیں اور ان میں حقوق کا جو اصول کھڑا کر دیا گیا ہے،اس کے علاوہ اردو،بنگالی زبان کا جو جھگڑا دونوں قطعۂ ارض میں چل نکلا ہے،اس کے سلجھاؤ کا زیادہ تر تعلق اس امر سے ہے کہ آپ یہاں اسلامی نظامِ حکومت قائم کر دیں۔اگر ملک کے دونوں بازوؤں کے درمیان مصالحت کا تعلق صرف اسلام سے ہو تو معاملہ بہت جلد حل ہو سکتا ہے،لیکن افسوس کہ یہاں اسلام کو ثانوی حیثیت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ ’’اگر آپ پاکستان کے گذشتہ سات سالہ دورِ حکومت پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ پاکستان کے برسرِ اقتدار طبقے نے اپنے عوام کی ضروریات اور ان کے رحجانات کا بہت کم خیال رکھا ہے،یہی اسلامی دستور کا کس قدر اہم اور بنیادی مسئلہ ہے،درحقیقت یہی ایک ایسا مسئلہ ہے جو تقسیمِ ہند کا باعث ہوا ہے،اگر تحریکِ پاکستان کے بانی اپنی تقریروں اور تحریروں میں اسلام کا نام نہ لیتے اور اس ملک میں اسلامی نظامِ حیات کے نفاذ کے وعدے نہ کرتے تو یقینا مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت ان کا ساتھ نہ دیتی۔اسلام اور اس کی ترویج مسلمانوں کے