کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 33
ڈالا۔جو چند آزمایشیں کمر کی تکلیف اور پھر آپریشن راستے میں آئے تو انھیں بھی ناقابلِ برداشت بوجھ نہیں بننے دیا۔اﷲ تعالیٰ نے میری لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر کیا،غلطیوں سے سیکھنے اور اس سے انسانی حد تک بچنے کی توفیق بھی عطا فرمائی۔ والد صاحب علیہ الرحمۃ کو علما و صلحا کی جماعت سے گہری عقیدت تھی،وہ گول بازار کریانہ میں دکان کرتے تھے،چھوٹے بھائیوں کی کم عمری کے باعث دکان پر بھی میں وقت دیتا۔نمازوں کے دوران میں دکان پر بیٹھتا اور والد صاحب مسجد چلے جاتے،میں بعد میں دوسری مسجد میں نماز ادا کر لیتا۔گھر پر اور دکان پر اﷲ تعالیٰ کی خاص عنایت اور والد صاحب کی صالحیت کے سبب علمائے کرام کا آنا جانا رہتا۔مولانا احمد دین گکھڑوی جب تک فیصل آباد میں رہے،ان کا قیام و طعام ہمارے غریب خانے پر رہا،انھیں والد صاحب سے گہرا شغف تھا اور والد صاحب بھی انھیں دل سے چاہتے تھے۔ علمائے کرام جن میں حافظ محمد اسماعیل ذبیح،حافظ محمد اسماعیل روپڑی،حافظ عبدالقادر روپڑی،مولانا علی محمد صمصام،مولانا سید عبدالغنی شاہ آف کامونکے،حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری،مولانا محمد عبداﷲ گورداسپوری اور مولانا محمد حسین شیخوپوری خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں،یہ حضرات جب بھی فیصل آباد یا نواحی علاقوں میں تشریف لاتے تو آتے جاتے ہمارے غریب خانے پر قیام فرماتے۔میری والدہ مرحومہ ان علما کی میزبانی اور کھانے پینے کی خدمت کو ایک سعادت سمجھ کر ادا کرتیں۔میری ہمشیرگان اور پھر میری اہلیہ بھی اس سلسلے میں ان کا ہاتھ بٹاتیں۔ذلک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشائ۔ وہ امن و امان کا دور تھا،شہر میں محلہ جات میں بھی اور چوک گھنٹہ گھر میں وارثی مکان کے سامنے اور کارخانہ بازار میں حاجی عبدالکریم مسافر کی دکان کے سامنے شبان اہلِ حدیث کے زیرِ اہتمام بڑے بڑے تبلیغی جلسے منعقد ہوتے تھے،جن