کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 325
نے ایک ہفتہ پیشتر ہی گراؤنڈ کو سنبھال لیا اور رات دن پہرہ دیتے رہے کہ کہیں گراؤنڈ گیلی نہ کر دی جائے،مگر احراری بھی بہت شرارتی اور باہمت تھے،انھوں نے دس بارہ پنجرے لیے اور غلہ منڈی کی گڑ شکر کی دکانوں میں انھیں رکھ دیا،چوہوں سے پنجرے بھر گئے،سردی کا موسم تھا،سامعین چادریں اور کمبل اوڑھے جلسہ گاہ میں بیٹھے تھے،احراری کارکنان ایک ایک پنجرہ لے کر اسے کمبل کے نیچے چھپائے جلسہ گاہ کے کونوں اور درمیان میں بیٹھ گئے،جوں ہی جلسہ سامعین سے بھر گیا اور تقریروں کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک طرف سے چوہے چھوڑ دیے گئے،وہاں سے بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے،اسٹیج سے کہا گیا کہ آپ لوگ چوہوں سے ڈرتے ہیں،پاکستان کیا بناؤ گے؟ تھوڑی دیر بعد دوسرے کونے اور پھر درمیان میں بھگڈر مچ گئی۔ایک کارکن جو پنجرہ لیے اسٹیج پر بھی براجمان تھا،اس نے پنجرہ کھول دیا،ایک چوہا مقرر کی شلوار میں داخل ہو گیا،اس طرح اسٹیج بھی خالی ہو گیا،اس عجیب و غریب ترکیب سے جلسہ بری طرح ناکام ہو کر رہ گیا۔
غرضیکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے جلسے کو ناکام بناتے اور نئے نئے طریقے استعمال میں لاتے۔کانگریسی ذہن کے علما اس قدر پکے اور متشدد تھے کہ اپنے نظریے کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے آمادہ نہ ہوتے۔
1979ء میں ان سطور کا راقم حج کے موقعے پر بابِ بلال پر حافظ فتحی مرحوم کے پاس بیٹھا تھا۔یہ جگہ علما کی باہم ملاقات اور ملنے جلنے کے لیے معروف تھی۔حافظ فتحی ضلع فیصل آباد سے تعلق رکھتے تھے۔جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فارغ التحصیل تھے،نابینا ہونے کے باوجود بڑے ذہین اور صاحبِ مطالعہ تھے۔حرم کی نچلی منزل میں ان کا کمرہ گویا لائبریری تھی،جس سے ملکی و غیر ملکی علما استفادہ کرتے تھے۔