کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 32
مختصراً درسِ حدیث بھی دیتا رہا۔1984ء میں برطانیہ کی جمعیت کی دعوت پر برمنگھم میں سالانہ کانفرنس میں بھی شرکت کی۔میرے ہمراہ حافظ محمد یوسف مرحوم چونیاں والے بھی تھے۔ 1992ء کے لگ بھگ مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ کے انتقال پر جماعتی احباب نے مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث امین پور بازار کی خطابت کا فریضہ میرے سپرد کر دیا۔مسجد کی مرکزیت کے باعث اسی وقت سے شہر کے دوسرے مکاتبِ فکر کے علما سے روابط،امن و امان کے حوالے سے ضلعی ڈویژنل بلکہ صوبائی سطح کی امن کمیٹیوں میں مسلک کی نمایندگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی وغیرہ جیسے امور و معاملات طے کرنے کے مسائل اﷲ کے فضل و احسان سے انجام دیتا چلا آ رہا ہوں۔ مولانا محمد صدیق مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے نائب امیر اور شہری جمعیت کے امیر چلے آ رہے تھے،ان کے بعد یہ دونوں منصب بھی مرکز نے میرے ذمے لگائے۔انہی ایام کی بات ہے کہ جماعت کے جلیل القدر خطیب علامہ احسان الٰہی ظہیر،جو چینیاں والی مسجد لاہور کے بلند پایہ خطیب تھے،وہ ہفت روزہ ’’اہلِ حدیث‘‘ کے بھی مدیر اعلیٰ تھے،لیکن علامہ صاحب نے سیاسی جدوجہد میں ’’اہلِ حدیث‘‘ کی ادارت کو ایک بڑی رکاوٹ سمجھا اور وہ اس ذمے داری سے مستعفی ہو گئے۔چنانچہ 1974ء سے 1984ء تک اکابرِ جمعیت مولانا معین الدین لکھوی اور میاں فضل حق نے یہ ذمے داری میرے ناتواں کندھوں پر ڈالے رکھی۔ میں ہفتے میں ایک دو روز لاہور بھی جاتا رہا،تقریباً دس برس یہ سلسلۂ ادارت بھی ادا کرتا رہا۔رب کریم نے مجھے اپنے فضل و کرم سے اور والدین کی دعاؤں سے بیک وقت بہت سے دینی کام کرنے کی توفیق بخشی اور کسی بڑے امتحان میں نہیں