کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 319
نے بڑی جراَت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور پھر آگ اور خون کا دریا عبور کر کے سرزمینِ پاکستان میں قدم رکھا۔
ادھر ہندوستان کی راجدھانی دہلی جیسے بہت بڑے علم و دانش اور سیاسیات کے مرکزی شہر میں دارالعلوم رحمانیہ کے بانی و مہتمم شیخ عطاء الرحمان کے نوجوان صاحبزادے شیخ حبیب الرحمان دہلی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل تھے۔دہلی اور گرد و نواح میں مسلم لیگ کو منظم کرنے اور تحریکِ پاکستان کو عروج دینے میں ان کا اہم کردار رہا۔بنگال میں علامہ راغب احسن تو قائد اعظم اور مولانا ابوالکلام آزاد کے درمیان تقسیمِ ملک کے سلسلے کی گفتگو اور مذاکرات کرنے میں ہمیشہ ایک واسطہ بنتے،ان کا شمار قائد کے بااعتماد اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔
بنگال ہی میں مولانا اکرم خان کی تحریری و تقریری کوششوں کو کون فراموش کر سکتا ہے؟ قیامِ پاکستان کے بعد وہ پہلی دستور ساز اسمبلی کے ممبر بھی رہے،اس حیثیت سے انھوں نے قراردادِ مقاصد کی نوک پلک سنوارنے اور اسے پاس کرانے میں ممتاز رول ادا کیا۔علمائے اہلِ حدیث مولانا عطاء اﷲ حنیف،مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کی ترغیب پر جنرل ضیاء الحق نے قراردارِ مقاصد کو آئین کا حصہ بنایا۔یہ علما جنرل ضیا کی مجلسِ شوریٰ کے ممبران بھی تھے،جن کی مشاورت سے جنرل صاحب نے اسلامائزیشن کے سلسلے کے کئی اقدامات کا نفاذ کیا تھا۔
حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی نے صرف سیالکوٹ اور قرب و جوار ہی میں تحریکِ پاکستان کو فروغ نہیں دیا،بلکہ قائد اعظم کے ہمراہ ہندوستان کے دور دراز صوبوں میں یوپی،سی پی اور بہار تک دورے کیے اور بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا،خواجہ صفدر جیسے دلیر اور تحریکی نوجوان سیالکوٹ میں ان کے دست و بازو تھے۔