کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 31
اور پروفیسر غلام احمد حریری سے کسبِ فیض کیا۔جامعہ میں میرے رفقائے درس شیخ الحدیث مولانا عبیداﷲ عفیف،مولانا عبدالخالق قدوسی شہید،مولانا محمد یونس مجاہد اوکاڑوی اور مولانا محمد ادریس کچا پکا قصور خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔وفاق المدارس کا نظام قائم ہونے پر پہلے سال ہی ممتاز حیثیت سے امتحان میں پاس ہوا۔ 1964ء کے شروع میں حاجی محمد اسحاق امرتسری نے گلوب مارکیٹ مندر کی بلڈنگ میں گرلز سکول اور ڈسپنسری کے اداروں کو ختم کر کے مسجد رحمانیہ بنائی۔مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی کی مشاورت سے حاجی صاحب نے مجھے اس مسجد کی امامت اور خطابت کی ذمے داری دے دی۔ ابتدائی طور پر میرے والد صاحب گول بازار کریانہ سے صوفی احمد دین،حاجی بشیر احمد،سعید احمد بٹ اور اچھا دواخانہ کے چیمہ برادران عبدالحلیم،عبد الخالق اور عبدالقیوم کو لے آئے۔یہ سب نوجوان والد علیہ الرحمۃ کی تبلیغ و ترغیب سے اہلِ حدیث ہوئے تھے۔مندر گلی میں اہلِ حدیث فیروز دین مرحوم،جو پروفیسر محمد شریف کے والد تھے،انہی کی ایک دکان تھی۔کارخانہ بازار سے ڈاکٹر محمد یعقوب،حاجی محمد شریف (ماجھا کلاتھ والے)،حاجی گلزار احمد مندر گلی والے،جو میری ترغیب سے اہلِ حدیث ہوئے تھے،ان حضرات پر مشتمل مندر گلی مسجد رحمانیہ سے ملحق اہلِ حدیث افراد کی ایک موثر جماعت وجود میں آ گئی۔ان دنوں یہاں رہایشی مکانات بھی تھے،جو اب تمام چھوٹی چھوٹی کپڑے کی مارکیٹوں میں تبدیل ہو چکے ہیں،بلکہ شہر بھر کا کاروباری مرکز یہی سمجھا جاتا ہے۔ ان سطور کے راقم نے اس مسجد میں فجر کی نماز کے بعد پانچ مرتبہ درس میں بحمد اﷲ قرآن مجید ختم کیا۔نمازِ عصر کے بعد تاجر طبقے کی اصلاح اور موقع کی مناسبت سے