کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 305
خراجِ تحسین پیش کیا ع
قائم ہے ان سے ملتِ بیضا کی آبرو
اسلام کا وقار ہیں داود غزنوی
یاد رہے مولانا ثناء اﷲ امرتسری اور علامہ میر سیالکوٹی 1906ء میں مسلم لیگ کے تاسیسی دور ہی میں کانگریس کو خیر باد کہہ چکے تھے اور مسلم لیگ کے بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کے ساتھ ساتھ اہم ترین پالیسی اجلاسوں میں بھی ان دونوں کی شرکت ضروری سمجھی جاتی تھی۔
1920ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا ایک بڑا جلسہ امرتسر میں حکیم اجمل خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔اسی جلسے میں قائد اعظم محمد علی جناح کو آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر منتخب کیا گیا۔اس اہم ترین جلسے کی مجلسِ استقبالیہ کے صدر جوان رعنا مولانا ثناء اﷲ امرتسری تھے۔
1936ء میں ہندوستان کے عام انتخابات کے موقع پر مسلم لیگ نے جو پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا،اس کے ممبران میں بیرسٹر میاں عبدالعزیز مالواڈہ اور مولانا عبدالقادر قصوری (جدِ امجد وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری) کے نام بھی شامل تھے۔
لاہور میں بیرسٹر میاں عبدالعزیز مالواڈہ (والد میاں عبدالمجید مرحوم ناظمِ مالیات مرکزی جمعیت اہلِ حدیث) کی کوٹھی بیرون یکی دروازہ مرکزِ تحریک رہی۔میاں صاحب چند سال مسلم لیگ پنجاب کے صدر بھی رہے اور لاہور کارپوریشن کے میئر بھی۔مولانا ابو الکلام آزاد اور مسٹر جناح اکثر انہی کی اس خوب صورت وسیع کوٹھی میں قیام فرماتے۔آج سے پچیس تیس برس قبل مولانا محمد اسماعیل سلفی کی امارت کے دور میں مرکزی جمعیت کی عاملہ کے کئی اجلاس یہاں منعقد ہوئے۔راقم الحروف کو ان