کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 30
اور سکیورٹی سنبھالتے۔مرکزی جمعیت کی سالانہ کانفرنس جو ہر سال کسی نہ کسی بڑے شہر میں منعقد ہوا کرتی تھی،ان کا زیادہ تر انتظام اور دیکھ بھال بھی فیصل آباد ہی کے نوجوانوں کو سونپی جاتی۔مرکزی جمعیت کی کابینہ میں مولانا لکھوی کی امارت اور میاں فضل حق کی نظامت کے دور میں ایک نظامتِ شبان بھی رکھی گئی،جس کا ناظم راقم الحروف کو بنایا گیا۔سالہا سال اس ذمے داری کو نبھاتے ہوئے ملک بھر میں میں نے شبان کی متعدد ذیلی تنظیمیں بنائیں۔
جب علامہ احسان الٰہی ظہیر مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد اپنے ملک میں تشریف لائے تو کچھ مدت بعد مرکزی جمعیت میں اختلاف رونما ہوئے۔علامہ صاحب نے مایوس ہو کر اپنی علاحدہ جمعیت اہلِ حدیث قائم کی اور نوجوانوں کی بھی ایک الگ تنظیم ’’اہلِ حدیث یوتھ فورس‘‘ کے نام سے منظم کی،لیکن جلد ہی جماعت کے بعض بہی خواہوں اور مخلصین کی کوششوں سے دونوں جمعیتیں ایک ہو گئیں۔جمعیت اہلِ حدیث کو مرکزی جمعیت میں اور شبان اہلِ حدیث کو اہلِ حدیث یوتھ فورس میں مدغم کر دیا گیا۔بحمدﷲ آج اہلِ حدیث یوتھ فورس جوبن پر ہے اور وہ مرکزی سطح پر بھی اور مقامی جمعیتوں کے بھی دست و بازو بن کر مسلک کی تبلیغ و اشاعت میں سرگرمِ عمل ہیں۔
کلیہ دار القرآن و الحدیث میں زیرِ تعلیم رہتے ہوئے ان سطور کا راقم شبان اہلِ حدیث کی ذمے داریاں بھی،صدارت اور کبھی نظامت کی صورت میں،نبھاتا رہا۔یہاں میرے اساتذہ کرام؛ شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اﷲ ویرووالوی،مولانا حافظ احمد اﷲ بڈھی مالوی،مولانا عبدالغفار حسن اور پروفیسر غلام احمد حریری تھے۔1961ء میں کلیہ دار القرآن سے فراغت کے بعد میں نے جامعہ سلفیہ میں داخلہ لیا،جہاں حضرت حافظ محمد گوندلوی،مولانا محمد اسحاق چیمہ،مولانا شریف اﷲ خان،مولانا محمد عبدہ