کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 299
کے اوصاف قرآن عزیز میں اس طرح ہیں: ﴿ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾[یونس: ۶۲] قائد اعظم مسٹر محمد علی جناح نے نشانِ منزل تو کئی بار قوم کے سامنے واضح کر دیا تھا،بطور مثال ملاحظہ کریں کہ 1945ء میں پیر صاحب مانکی شریف نے مسلم لیگ کو جوائن کرنے سے قبل قائد اعظم سے تصورِ پاکستان کے حوالے سے وضاحت چاہی تو قائد اعظم نے پیر صاحب کو ایک خط لکھا،جس میں انھوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کبھی شریعت کے منافی قوانین نہیں بنائے گی اور نہ پاکستان کے مسلمان غیر اسلامی قوانین کی اجازت دیں گے۔ قراردادِ پاکستان کی منظوری کے نو ماہ بعد قائد اعظم کا ایک بیان ملاحظہ فرمائیں: ’’مسلم اقلیت والے صوبوں کے مسلمانوں کو اپنی تقدیر کا مطالبہ کرنا چاہیے،لیکن مسلم اکثریت والے صوبوں کو آزادی دلانی چاہیے،تاکہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔‘‘ (’’انقلاب‘‘ 31 دسمبر 1940ئ) غور کیجیے کہ قائد اعظم دسمبر 1940ء میں جب ابھی پاکستان کا تصور محض ایک خواب تھا،اس مطالبے کا جواز یہ دے رہے ہیں کہ ’’تاکہ وہ اپنی زندگی اسلامی شریعت کے مطابق گزار سکیں۔‘‘ تحریکِ پاکستان میں علمائے اہلِ حدیث کی تگ و تاز اور جدوجہد ناقابلِ فراموش ہیں،بلکہ منزل کے حصول کے لیے ان کی جانی و مالی اور کئی طرح کی قربانیاں تاریخِ پاکستان کا روشن باب ہیں۔ جملہ معترضہ کے طور پر عرض گزار ہوں کہ تحریکِ پاکستان سے قبل کی برصغیر کی عظیم تحریکوں کے اولین مجاہدین علمائے اہلِ حدیث ہی تھے۔اس سلسلے میں حضرت