کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 298
نچھاور کر رہے تھے۔مگر بقول ڈاکٹر اسرار احمد: ’’ستائیسویں رمضان کی شب قیامِ پاکستان قدرت کا انعام تھا،اگر انعام کی قدر نہ کی جائے تو اس کی سزا بھی ملتی ہے۔‘‘ میں خود ان کئی دیگر پاکستانیوں کی طرح خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں،جنھوں نے عمر کے ابتدائی حصے میں پاکستان کو بنتے دیکھا اور خون کا دریا عبور کر کے اپنے شہر پٹی سے والدین کے ہمراہ قصور پہنچے،جہاں کوٹ غلام محمد خان میں ہمارے عزیز تھے،اسٹیشن پر مہاجرین کا کیمپ تھا،میرے والد اپنے دوستوں حافظ عبدالرحمان پٹوی ثم قصوری اور مولانا عبدالعظیم خان انصاری پٹوی ثم قصوری کے ہمراہ روزانہ کھانے پینے کا سامان لے کر ان مہاجرین کو دیتے۔عید الفطر سے ایک روز قبل مولانا عبداﷲ ثانی پر نظر پڑی تو بچوں سمیت والد صاحب انھیں گھر لے آئے۔مولانا موصوف نے عید الفطر کی نماز گورنمنٹ ہائی سکول قصور کی گراؤنڈ میں پڑھائی۔خطبۂ عید میں انھوں نے امرتسر میں سکھوں کی طرف سے مسلمانوں خصوصاً علما پر کیے گئے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا ثناء اﷲ امرتسری کا اکلوتا بیٹا شہید کر دیا گیا۔روپڑی خاندان کے کئی افراد شہید کر دیے گئے۔نوجوان روپڑی برادران حافظ محمد اسماعیل اور حافظ عبدالقادر جو سکھوں کی ہٹ لسٹ پر تھے،برقع پہن کر عورتوں کے قافلے میں شامل ہو کر امرتسر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔حضرت العلام حافظ محمد عبداﷲ روپڑی کی مسجد مبارک کو رات کے وقت آگ لگا دی گئی،پتا چلنے پر لوگ بھاگے بھاگے گئے تو ساری مسجد جل چکی تھی،مگر وہ حجرہ جس میں حضرت حافظ صاحب نمازِ تہجد ادا کر رہے تھے،محفوظ ہے اور حافظ صاحب مسجد کی تمام تر جلنے کی صورتِ حال سے بے خبر تھے۔ بلاشبہہ ہمارے اسلاف اولیاء اﷲ کی صف کے باکرامت بزرگ تھے،جن