کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 297
جملے پر نثار ہو ہو جاتے۔ ہم نے تو ان کا بڑھاپا دیکھا ہے،قیامِ پاکستان سے قبل ملکی و ملی اور ان کی دینی تگ و تاز،پھر اس سے پہلے تحریکِ خلافت کے ایک سرگرم مجاہد کی حیثیت سے ان کی سرگرمیاں اور جوانی کی جولانیاں کیسی دیدنی اور خوش نما ہوں گی۔ ہمارے یہ اکابر نہ صرف تحریکِ پاکستان اور دیگر سیاسی میدانوں میں سرِفہرست تھے،بلکہ مسلم لیگ کے تاسیسی اجلاسوں میں شریک تھے۔1920ء میں امرتسر میں مسلم لیگ کے عظیم الشان جلسہ،جس کی صدارت حکیم اجمل خان نے کی اور جس میں قائد اعظم کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا تھا،اس جلسے کی مجلسِ استقبالیہ کے صدر جوانِ رعنا عالمِ دین مولانا ثناء اﷲ امرتسری تھے،جن کی تنظیمی اور سیاسی صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا۔ 1930ء میں الٰہ آباد کے اجلاس میں علامہ اقبال نے اسلامی ریاست کا تصور اور خاکہ پیش کیا،اس اجلاس میں حضرت میر سیالکوٹی موجود تھے۔قارئین غور فرمائیں کہ ایک طرف تو اس زمانے کے بڑے فتنے قادیانیت سے ہمارے یہ علما نبرد آزما تھے،دوسری طرف عیسائیت،نیچریت اور آریہ سماج سے مناظروں میں اسلام کی حقانیت ثابت کر رہے تھی،اس کے علاوہ اپنے اپنے مقام پر ان کی مسلکی تدریسی و تبلیغی جدوجہد بھی عروج پر تھیں،جو امیر پنجاب حضرت سید محمد شریف شاہ گھڑیالوی جیسی نابغہ روزگار ہستی کی سرپرستی میں دن رات جاری رہتی تھی،لیکن ان تمام دینی مصروفیات کے باوجود سیاسی میدان میں بھی ان کا کردار نمایاں تھا۔پنجاب کا خطہ جس میں سکھوں نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں پر بے سروسامانی کی کیفیات میں ظلم و ستم ڈھائے،ان میں ہمارے جلیل القدر علما بھی آزادیِ وطن کی راہ میں تن من دھن