کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 296
جس پر پنڈال نعروں کے شور سے معمور ہو گیا۔مولانا غزنوی کے بعد مولانا ظفر علی خان مائیک پر آئے اور مولانا غزنوی کو اس فی البدیہ شعر سے خراجِ تحسین پیش کیا ع
قائم ہے ان سے ملتِ بیضا کی آبرو
اسلام کا وقار ہیں داود غزنوی
آغا شورش کاشمیری مرحوم نے اپنی تصنیف ’’ظفر علی خان‘‘ میں اس واقعے کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
مجھے فیصل آباد کے ایک بزرگ نے بتایا کہ پنجاب کانگریس کی صدارت ترک کر کے چند دنوں بعد مولانا غزنوی فیصل آباد تشریف لائے،ان کی تقریر کا دھوبی گھاٹ کے میدان میں پروگرام بنایا گیا اور ایک شاندار جلسۂ عام کا اعلان مشتہر کر دیا گیا۔ہوا یہ کہ مولانا کے لیے ایک اونچی اور خوب صورت کرسی تیار کی گئی،جو صرف انہی کے لیے اسٹیج پر رکھی گئی۔مولانا غزنوی اس مزین اور بلند کرسی پر جلوہ افروز تھے اور پنڈال کے دور تک کونوں میں موجود سامعین ان کی زیارت کر رہے تھے۔دوسرے قائدین: میاں عبدالباری صدر پنجاب مسلم لیگ،چوہدری عزیز دین صدر ضلع کونسل و صدر ضلعی مسلم لیگ تشریف فرما تھے۔
جن لوگوں نے مولانا غزنوی کو دیکھا ہے،وہ جانتے ہیں کہ آپ مضبوط جسم و جان،قد آور اور حسن و جمال کے پتلے تھے،سر پر قراقلی ٹوپی اور بعض دفعہ مشہدی پگڑی کلا پر،اچکن اور شلوار میں ملبوس،ہاتھ میں خوب صورت چھڑی لیے ایک بارعب و باوقار شخصیت کے مالک تھے۔جی چاہتا تھا کہ انھیں دیکھتے چلے جائیں۔ان کے خطاب میں ولولہ و دبدبہ ایسا ہوتا کہ سامعین ہمہ تن گوش ہو کر ان کے ایک ایک