کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 290
مخالفت میں بڑھ چڑھ کر لکھتے تھے،لیکن مولانا ظفر علی خان ’’زمیندار‘‘ میں،مولانا غلام رسول مہر اور مولانا عبدالمجید سالک ’’انقلاب‘‘ میں اور حمید نظامی ’’نوائے وقت‘‘ میں اپنے زور دار اداریوں اور مضامین میں ان کا پورا پورا دفاع کرتے۔مولانا ظفر علی خان نظم اور نثر دونوں طریقوں سے ہندو پریس کو ناکوں چنے چبواتے۔
الغرض دن بہ دن تحریکِ پاکستان آگے بڑھتی چلی گئی۔اس زمانے میں میرا بچپنا تھا،والد صاحب ’’زمیندار‘‘ اور ’’نوائے وقت‘‘ دونوں اخبارات خریدتے تھے،آج بھی وہ ایام یاد آتے ہیں تو بہت سے دلخراش واقعات و سانحات سامنے آ جاتے ہیں۔
برصغیر کے طول و عرض میں پھیلی تحریکِ پاکستان ایک غلغلے کی صورت اختیار کر چکی تھی،جس میں اہلِ حدیث علما خصوصاً سید محمد داود غزنوی اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کا بڑا اعلیٰ کردار رہا،جنھوں نے قائد اعظم کے ہمراہ ملک کے دور دراز علاقوں تک کا سفر کیا اور قائد کے ساتھ جلسہ ہائے عام سے خطاب فرماتے رہے۔کلکتہ کے ایک جلسے میں ’’پاکستان کا مطلب کیا،لا إلہ إلا اﷲ‘‘ کا نعرہ مولانا سیالکوٹی نے دیا،دوسرا نعرہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان،بن کے رہے گا پاکستان‘‘ یہ نعرہ مولانا غزنوی نے ڈھاکہ کے جلسے میں لگایا تھا۔دونوں نعروں سے ملک کی گلی گلی اور کوچہ کوچہ گونج رہا تھا۔علمائے اہلِ حدیث کی خدماتِ عالیہ پر شاعر کی زبان میں کہنا پڑے گا ع
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں
آج کل افسوس ناک امر یہ ہے کہ نظریۂ پاکستان کی نفی کی جا رہی ہے۔سیکولر طبقہ قائد اعظم کی بعض تقریروں میں گڑبڑ کر کے عوام الناس کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے،حالانکہ قائد نے اسلام کے بارے میں بیشتر مقامات پر جو بھی بات