کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 29
خوش گفتار،خوش بیان اور شعلہ نوا مقرر و مناظر تھے۔گاؤں کی نمبرداری اور چار مربعے زمین کے مالک تھے،ان کے علاوہ گول بازار کریانہ میں ان کے بڑے صاحب زادے کریانے کی تھوک دکان کرتے تھے،اس لحاظ سے وہ عام علما کی نسبت خوش حال اور خاص بانکپن سے مزین تھے۔شبان اہلِ حدیث کے نوجوانوں کی انھوں نے خوب سرپرستی اور پذیرائی فرمائی۔
شبان اہلِ حدیث کے زیرِ انتظام شہر بھر میں تبلیغی پروگراموں میں ان کی بے باک تقاریر ایک سماں باندھ دیتیں۔قرآن مجید کی شیریں تلاوت کا ان کا اپنا نرالا انداز تھا،جس میں بیان و کلام اور تقاریر کے نکات سامعین کو محظوظ کرتے تھے۔شیعہ حضرات سے انھوں نے بہت سے مناظرے کیے،اُن سے گفتگو اور بحث مباحثے میں تمام سنّی مکاتبِ فکر کی طرف سے وہ ایک اتھارٹی سمجھے جاتے تھے۔1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں کئی ماہ فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں قید رہے۔1974ء کی تحریکِ ختم نبوت میں بھی ان کا نمایاں کردار تھا۔
سیاسی طور پر شروع سے وہ مسلم لیگ میں شامل تھے،تین چار مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا،لیکن اپنے ہی نادان دوستوں کی بے وفائی سے تین چار ہزار ووٹوں سے ناکام ہو جاتے۔مولانا محمد صدیق کی حسِ مزاح بھی بڑی دلآویز تھی،جب اپنے ساتھیوں مولانا عبیداﷲ احرار وغیرہ کی مجالس میں ہوتے تو مجلس کے روحِ رواں وہی ہوتے۔مولانا علیہ الرحمۃ مرکزی جمعیت کے بانیوں میں سے تھے،ایک عرصہ تک مرکزی جمعیت کے نائب امیر بھی رہے۔
اس دور میں شبان اہلِ حدیث کے تحت ہر سال دھوبی گھاٹ میں تین روزہ سالانہ تبلیغی کانفرنس منعقد ہوتی۔ہمارے پچاس باوردی نوجوان ان کانفرنسوں کا انتظام