کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 284
ہے کہ صبح بچوں کو کھلائیں گے،اس کے علاوہ کھانے کی کوئی اور چیز نہیں ہے۔انھوں نے وہ دیگچہ اٹھایا اور مسجد میں لا کر تینوں مسافروں کے حوالے کر دیا۔ مولوی صاحب نے سوچا کہ اگر تینوں کھائیں گے تو ظاہر ہے کہ مجھے حصہ کم ملے گا۔انھوں نے ایک ترکیب سوچی اور کہا: دوستو! دن گزر گیا،رات سو کر گزار دیتے ہیں۔صبح کو ہم نے پھر سفر پر آگے روانہ ہونا ہے،اس لیے صبح یہ کھیر کھا کر چلیں گے۔ انھوں نے دونوں کو سلایا اور خود جاگتے رہے۔تھوڑی دیر بعد دیگچہ اٹھایا اور ساری کھیر کھا کر خالی دیگچہ الماری میں رکھ دیا۔فجر کی نماز کے بعد جب لوگ چلے گئے تو مولوی صاحب فرمانے لگے کہ بھئی آئیے! ہم مل کر بیٹھیں،تم میں سے جو اچھا خواب سنائے،وہ زیادہ کھیر کھائے۔کسان نے کہا: میں تو ساری رات کھیتوں کو پانی ہی دیتا رہا ہوں۔دکان دار نے کہا کہ میں سودا سلف تولنے اور دینے لینے ہی میں رہا،آپ مولوی لوگوں کو اچھے خواب آتے ہیں،حضرت آپ سنائیے! مولوی صاحب کہنے لگے: تو پھر سنو! تم لوگ سو گئے،مگر فرشتہ آیا اور اس نے دیگچہ ایک طرف رکھ کر مٹھی بھر بھر کر کھیر میرے منہ میں ڈالنا شروع کر دی۔میں نے بہت کہا کہ میرے دو ساتھی اور ہیں،انھیں بھی کھلانی ہے،،مگر وہ مصر تھا کہ نہیں،مجھے یہی حکمِ خداوندی ملا ہے کہ اکیلے مولوی صاحب کو کھلائیں ! باقیوں کو بالکل نہیں۔جب دونوں نے دیگچے کا ڈھکنا اٹھا کر دیکھا تو وہ بالکل صاف تھا۔ مولانا صمصام کی اس قسم کی لطیفہ بازی اور چٹکلوں سے لوگ بڑے محظوظ ہوتے،اس طرح وہ بات سے بات پیدا کرتے چلے جاتے اور ان کی تقریر کا رنگ اور مجلس اور جم جاتی۔وہ رات گئے تک گمراہیہ عقیدوں کی مذمت کرتے ہوئے توحید و سنت پر مبنی صاف و شفاف تعلیماتِ اسلامی کو روانی اور شعری کلامی سے مزین کرتے۔