کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 283
آتے جاتے والد صاحب سے میل ملاقات ان کے معمولات میں شامل تھا۔والد صاحب سے ان کا گہرا دوستانہ اور برادرانہ سلسلہ تھا۔مولانا کی تقریر عام فہم پنجابی زبان میں اور پنجابی میں شعر و شاعری پر مبنی ہوتی،جس میں کوئی مبالغہ نہ ہوتا،ان کی نظموں کا ایک ایک شعر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اتباع کا مظہر ہے۔پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں جہاں رات کو چوکوں میں اور دن کے وقت درختوں کی چھاؤں میں ہیر رانجھا اور سوہنی مہینوال قسم کے رومانی رسائل و اشعار پڑھے جاتے،ایک وقت وہ بھی آیا کہ انہی جگہوں میں مولانا صمصام کے رسالے اور نظمیں پڑھی جاتیں ع
جھوک مدینے والے احمد سردار دی
نام محمد والا کالجے ٹھار دا
مولانا صمصام دورانِ تقریر میں جب رسم و رواج اور خلافِ شریعت مولویوں کے اعمال و کردار کا ذکر مزاحیہ انداز سے فرماتے اور قرآن و احادیث کی روشنی میں ان کی مذمت کرتے تو ایک سماں بندھ جاتا۔وہ خاص طور پر بیان کیا کرتے کہ ملا لوگ کس طرح جھوٹ و فریب سے دین کا حلیہ بگاڑتے ہیں اور عوام کا مال کھاتے ہیں۔
ایک دفعہ کہانی سنائی کہ ایک مولوی،ایک کسان اور ایک دکان دار،تینوں ہم سفر ہوئے۔چلتے چلتے ایک گاؤں میں رات پڑ گئی۔نمازِ عشا کے بعد نمازی جا چکے تھے،کسی نے کھانے کے بارے میں بالکل نہ پوچھا۔ایک صوفی صاحب ذکر و اذکار کرتے ہوئے باقی رہ گئے،انھوں نے گھر جاتے ہوئے ان سے پوچھا کہ کچھ کھایا پیا ہے،آپ مسافر نظر آتے ہیں ؟ تینوں نے نفی میں جواب دیا۔وہ صوفی صاحب جلدی جلدی گھر گئے اور بیوی سے سارا ماجرا ذکر کیا،اس نے کہا کہ ایک دیگچہ کھیر کا پکا کر رکھا