کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 28
مولانا محمد حنیف ندوی،مولانا سید مولانا بخش کوموی،مولانا اﷲ بخش کمیرپوری،مولانا محمد اسحاق بھٹی اور بہت سے دوسرے علما کے علاوہ شہر کے تاجر و علما حضرات حاجی فیروز الدین،حاجی شیخ عنایت اﷲ،مولانا محمد اسحاق چیمہ،مولانا محمد صدیق،مولانا محمد ابراہیم خادم تاندلیانوالہ،مولانا عبداﷲ گورداسپوری،یہ سب پاکباز لوگ دعا گو تھے۔یہ انہی کی نیک دعاؤں کا ثمر ہے کہ جامعہ سلفیہ آج عالمی سطح کی ممتاز درس گاہ بن چکا ہے،جس کے ہزاروں فیض یافتہ علما و صلحا،ملک اور بیرونِ ملک اشاعتِ کتاب و سنت میں مشغول ہیں۔
کانفرنس کے انعقاد سے چند ہفتے قبل حافظ محمد اسماعیل روپڑی نے مسجد مبارک منٹگمری بازار میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں مسلک کے سرگرم نوجوانوں پر مشتمل تنظیم ’’شبان اہلِ حدیث‘‘ تشکیل دی۔ان نوجوانوں میں میرے علاوہ ماسٹر حبیب اﷲ،چوہدری عبدالخالق چیمہ،حکیم عبدالستار،حاجی شیخ عبدالستار ماڈل ٹاؤن،حاجی بشیر احمد گلبرگ والے اور دوسرے چند ایک نوجوان شامل تھے،آگے جا کر یہ تعداد بڑھتی رہی۔
ابتدائی طور پر جامعہ سلفیہ کا اجرا جامع اہلِ حدیث امین پور بازار میں کیا گیا،جہاں اول سے آخر تک کلاسیں شروع کی گئیں۔استاذی المکرم شیخ الاسلام حضرت حافظ محمد گوندلوی،جامع معقولات و منقولات مولانا شریف اﷲ خان سواتی،شیخ الحدیث مولانا محمد عبدہ،مولانا محمد حسین طور اور مولانا محمد صدیق جیسے اہلِ علم و فضل اساتذہ کی تقرری کی گئی۔مولانا محمد صدیق کو تاندلیانوالہ غلہ منڈی کی جامع اہلِ حدیث سے لا کر مرکزی جامع اہلِ حدیث امین پور کی خطابت و تدریس پر فائز کیا گیا۔یہ حسنِ انتخاب مولانا غزنوی کا تھا،جسے مولانا محمد صدیق نے بخوشی قبول کیا۔مولانا محمد صدیق