کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 277
وعظ و تقاریر اور مناظروں کا کافی شہرہ تھا۔بلاشبہہ دونوں حضرات جماعتی کانفرنسوں اور جلسوں کی رونق اور زینت تھے اور اگر ان کے ساتھ خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر بھی ہوتے تو پھر یہ رونقیں دوچند ہو جاتیں۔ مولانا محمد عبداﷲ گورداسپوری اپنی فطری خوش طبعی سے غم ناک ماحول کو بھی خوش گوار بنا دیتے۔حافظ عبدالحق صدیقی جب وفات پا گئے تو ان کی نمازِ جنازہ مغرب کے بعد شیخ الحدیث مولانا محمد عبداﷲ آف گوجرانوالہ نے پڑھانا تھی،لیکن راستے میں تاخیر ہونے کی وجہ سے مسجد سے اعلان ہوا کہ نمازِ عشا کے بعد جنازہ اٹھایا جائے گا،کیوں کہ مولانا محمد عبداﷲ لیٹ ہو گئے ہیں۔ مولانا محمد عبداﷲ گورداسپوری،علامہ احسان الٰہی ظہیر اور ان سطور کا راقم مسجد میں اکٹھے بیٹھے تھے۔مولانا عبداﷲ نے بازوؤں میں لے کر مجھے اور علامہ صاحب کو اٹھایا اور کہا کہ ’’بھوکوں کو رونا بھی نہیں آتا،آؤ کہیں سے جا کر کچھ کھا آئیں۔‘‘ علامہ صاحب اس دور میں تحریکِ استقلال میں چلے گئے تھے اور تنظیم کے مرکزی ناظمِ اطلاعات تھے،انھوں نے ساہیوال کے مقامی صدر کوئی بٹ صاحب تھے،اُن کا دروازہ کھٹکھٹایا،وہ باہر آئے اور علامہ صاحب سے تپاک سے ملتے ہوئے ہمیں ایک تکہ شاپ پر لے گئے۔ ماہِ رمضان المبارک میں افطاری کے وقت بعض لوگ چاولوں کی پراتیں،مساجد میں طلبا و مسافروں کے لیے بھیجتے ہیں۔مولانا عبداﷲ کہتے ہیں کہ میں نے خطبہ جمعہ میں کہا: ’’کوئی صاحب چاولوں میں سفید چنے ڈال کر اور کوئی سیاہ چنے ڈال کر،اور بعض چنوں کی دال ڈال کر مسجد میں بھجوا رہے ہیں،آپ لوگ کیا