کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 276
رمضان المبارک ہے،روزے سے ہیں،آپ کی کیا خدمت کریں ؟ حافظ صاحب نے فی الفور فرمایا: ’’ٹھیک ہے،مگر جیب کا روزہ نہیں ہے۔‘‘ اس جملے سے ہم خوب محظوظ ہوئے۔
ایک وہ زمانہ تھا کہ حافظ محمد اسماعیل اور حافظ عبدالقادر کی شرکت کے بغیر کوئی جلسہ کامیاب نہ ہوتا۔ہمارے دوست مولانا محمد طیب معاذ غالباً 1974ء میں فیصل آباد آئے تھے،میں انھیں لاہور مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں لے گیا۔اجلاس کے بعد مولانا حافظ عبدالحق صدیقی نے مجھ سے پوچھا کہ یہ نیا مولوی ہمراہ لائے ہو،ان کا نام کیا ہے؟ میں نے کہا کہ اسرائیل! حافظ صاحب نے فرمایا: پھر خیر ہے،کہیں بنی اسرائیل نہ ہو۔(مولانا موصوف کا نام محمد اسرائیل معاذ تھا،انہی دنوں حضرت الاستاذ مولانا محمد اسحاق چیمہ کی دکان پر احباب کی ایک مجلس میں ان کا نام تبدیل کر کے محمد طیب معاذ رکھا گیا تھا) مولانا طیب معاذ بحمد اﷲ بڑھاپے کے باوجود رشد و ہدایت کا پیغام پھیلانے میں سرگرمِ عمل ہیں۔
جمعیت شبان اہلِ حدیث میں ایک دفعہ کچھ گروہی اختلاف پیدا ہو گیا تھا،جسے دور کرنے کے لیے مولانا محمد شریف کو،جو قریباً 40 برس کی عمر کے تھے،متفقہ طور پر صدر بنا لیا گیا۔لاہور ہی میں مجلسِ عاملہ کے اجلاس کے بعد حافظ عبدالحق صدیقی نے مجھ سے پوچھا کہ شبان کا صدر کس عمر تک ہو سکتا ہے؟ میں نے ابھی جواب نہ دیا تھا کہ مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری فرمانے لگے: ’’جب تک کمر دہری نہ ہو جائے۔‘‘
مولانا حافظ عبدالحق صدیقی اور مولانا حافظ محمد ابراہیم کمیر پوری کا جماعت کے عام جلسوں میں سلسلۂ خطابت جاری رہتا تھا۔اپنے اپنے مقام پر ان کے خطباتِ جمعہ،