کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 275
شمس الدین گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے تھے۔دیوبندی صدر نے مجھے پندرہ منٹ دیے کہ آپ اپنا دعویٰ پیش کریں کہ فاتحہ خلف الامام کے بغیر ناقص ہے۔ظاہر ہے کہ اس دعوے کے لیے دو تین منٹ ہی کافی تھے،جب کہ مقصد یہ تھا کہ میں پہلی ٹرن ہی پوری نہ کر سکوں گا اور ہماری سبکی ہو جائے گی،مگر اﷲ تعالیٰ نے میری مدد اس طرح فرمائی کہ میں نے زوردار انداز اور تسلسل سے بیان کرتے ہوئے کہا: ’’فاتحہ خلف الامام کے بغیر نماز ناقص رہتی ہے،چاہے فرض نماز ہو،چاہے نفل،سنت ہو یا تراویح،نمازِ جنازہ ہو یا نمازِ استسقائ،مکہ مکرمہ میں پڑھی جائے یا مدینہ منورہ میں،کوفہ میں یا بغداد میں،اجمیر میں یا دہلی و بریلی میں،عرب میں ہو یا عجم میں،ہند میں ہو یا چین و جاپان میں۔ملکوں ملکوں کے نام لے کر میں نے بتایا کہ شہر ہو یا دیہات،امام پڑھے یا مقتدی،مفتی پڑھے یا قاری،غرضیکہ میں نے بتایا کہ دنیا کے جس خطے،مشرق و مغرب اور جنوب و شمال میں نماز ادا کی جائے گی،بغیر سورت فاتحہ پڑھی جانے والی نماز ناقص رہے گی۔‘‘ اب پندرہ منٹ سے دو تین منٹ زائد ہو چکے تھے۔مخالف صدر صاحب نے آوازیں لگانا شروع کر دیں کہ وقت ختم ہے،وقت ختم ہے۔بعد ازاں مناظرے میں اﷲ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے مسلک کی صداقت واضح ہو گئی۔ حافظ عبدالقادر نڈر،بے باک اور کلمہ حق بلند کرنے میں ممتاز مقام رکھتے تھے،لیکن وہ شگفتہ مزاح مقرر بھی تھے اور محفلوں میں سامعین کو خوش کن گفتار سے بھی نوازتے تھے۔ایک مرتبہ میں اُن کے ہمراہ بازار سے گزر رہا تھا کہ رمضان المبارک کا مہینا تھا۔ایک دکاندار دوست نے بڑھ کر سلام کیا اور بٹھا لیا،پھر کہا کہ