کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 274
میں بڑی سرخی یوں لگائی: ’’افسوس! آج دنیا سے حاضر جوابی کا خاتمہ ہو گیا!‘‘ ذیلی سرخی یہ بھی: ’’فاتح قادیان،مولانا ثناء اﷲ امرتسری انتقال کر گئے۔‘‘ رئیس المناظرین مولانا احمد دین گکھڑوی،مولانا علی محمد صمصام اور مولانا عبداﷲ ثانی،جبکہ میں بھی ان کے ساتھ تھا کہ گوجرہ کے قریب رات کو ایک گاؤں میں جلسہ تھا۔صبح واپسی پر جلسے کے منتظم نے بیس پا پچیس روپے مولانا گکھڑوی کو دیے کہ آپ حضرات کی خدمت ہے،حالانکہ کہ آمدورفت کا کرایہ بھی اس رقم سے پورا ہونا مشکل تھا۔مولانا گکھڑوی نے یہ رقم شکریے کے ساتھ واپس کر دی۔وہ صاحب کہنے لگے کہ مولانا! آپ بیان کرتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم سے کہا:﴿ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللّٰهِ﴾۔مولانا گکھڑوی کی عجب حاضر جوابی تھی،فرمایا کہ ’’انبیا کفار سے یہ بات کہتے تھے،آپ بھی کافر ہو جائیں،ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے!‘‘ ایک دفعہ مولانا گکھڑوی ایک گھر میں کھانا کھاتے ہوئے ہنسنے لگ گئے۔میں نے عرض کی کہ حضرت! ہنسنے کی کوئی بات تو نہیں ہوئی،فرمایا کہ ’’میں الہامی کھانا کھا رہا ہوں،مرزا غلام احمد کا الہام ہے کہ فرنی بڑی اچھی چیز ہے۔‘‘ مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی نے ’’فاتحہ خلف الامام‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قیام سے پہلے،جب کہ میری عمر بیس بائیس برس کی تھی،مشہور دیوبندی عالم مولانا خیر محمد جالندھری،جو تجربہ کار مناظر اور بڑھاپے کی عمر میں تھے،اُن سے فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر میرا مناظرہ ہوا۔ ہمارے صدر حافظ محمد اسماعیل روپڑی تھے اور دوسری جانب کے صدر قاضی