کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 273
دیجیے۔‘‘ اور محفل کِشتِ زعفران بن گئی۔جس طرح یہ راہنما ولولہ انگیز اور فکری خطاب کرتے،وہاں نجی محفلوں میں لطیفانہ کلام سے محظوظ فرماتے۔ ’’سیرت ثنائی‘‘ میں مولانا عبدالمجید سوہدروی نے لکھا ہے کہ لاہور برانڈرتھ روڈ پر احمدیہ بلڈنگ میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ تھا،مولانا امرتسری بھی لاہور میں تھے،آپ جلسہ سننے کے لیے ہال میں چلے گئے اور پچھلی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔صدرِ جلسہ کی نگاہ مولانا پر پڑ گئی تو انھوں نے خود مائیک پر آکر مولانا سے عرض کی کہ براہِ مہربانی اسٹیج پر تشریف لے آئیں۔مولانا امرتسری اسٹیج پر چلے گئے،اس نشست کا موضوع ’’اخلاقِ مرزا‘‘ تھا۔صدرِ جلسہ نے مولانا کا خیرِ مقدم کرتے ہوئے عرض کی کہ آپ بھی چند منٹوں کے لیے موضوع کے مطابق مرزا صاحب کے اخلاق کے متعلق خطاب فرمائیں،چنانچہ مولانا امرتسری مائیک پر آئے اور میر تقی میر کا یہ شعر پڑھا ع میرے معشوق کے دو ہی نشان ہیں اس مصرعے کو بار بار دہرایا،سامعین جب پوری طرح متوجہ ہو گئے تو پھر پورا شعر پڑھا ع میرے معشوق کے دو ہی نشان ہیں زبان پر گالیاں،مجنوں سی باتیں اس شعر کے فوراً بعد صدر صاحب نے عرض کی کہ مولانا براہِ نوازش آپ تشریف رکھیں۔ تقسیمِ ملک کے بعد حضرت مولانا ثناء اﷲ رحمہ اللہ کی وفات مارچ 1948ء میں سرگودھا میں ہوئی۔وفات کی خبر پر مولانا ظفر علی خان نے اپنے روزنامہ ’’زمیندار‘‘