کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 272
قائدین اور نہ مہمان لیڈران ہی،علامہ حسین میر نے آگے بڑھ کر کہا کہ مجھے صدر بنائیے اور فکر مت کیجیے۔
چنانچہ ان کی صدارت میں جلسہ شروع ہوا۔علامہ کشمیری صاحب کرسیِ صدارت پر براجمان،لیکن پیچھے ٹیک لگائے یوں دکھائی دیتے کہ سو رہے ہیں۔مصنوعی نیند میں کچھ خراٹے بھی سنائی دیے۔جب کوئی مقرر اسٹیج پر آتا اور اس کی تقریر کا آغاز ہوتا تو علامہ صاحب سونے لگ جاتے۔نعروں کے موقعوں پر یا مقرر کی تبدیلی پر ایک دو منٹ کے لیے جاگتے معلوم ہوتے،پھر آنکھیں بند کر لیتے۔مولانا غزنوی،مولانا ظفر علی خان،سید عطاء اﷲ شاہ بخاری اور آغا شورش کی شعلہ بار تقریروں کے بعد اسٹیج مائیک پر آئے اور حمد و ثنا کے بعد یوں گویا ہوئے:
’’اہالیانِ ملتان! آپ خوش قسمت لوگ ہیں جنھوں نے ملک کے مشہور و معروف مقررین کے خطابات سنے،مگر میری بدقسمتی رہی کہ کئی روز کے متواتر سفر کے باعث تھکا ماندہ کرسی پر بیٹھا سویا رہا اور ان ہستیوں کے خیالاتِ عالیہ کے سننے سے محروم رہا۔‘‘
جلسے کے اختتام پر سبھی قائدین گرفتار کر لیے گئے۔آغا شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ میں اسٹیج کے نیچے چھپ گیا،لیکن بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔علامہ حسین میر بخیر و خوبی واپس لاہور آ گئے،کیوں کہ انھوں نے صدارتی ذمے داری کی نفی کر دی کہ وہ تو نیند میں تھے!
ایک کھانے پر علامہ حسین میر کی خوش خوراکی کے سبب ان کی گھنی بھاری ڈاڑھی شوربے کے قطروں سے بھر گئی۔مولانا داود غزنوی کھانے کے بعد علامہ میر کی ڈاڑھی کی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے کہ ’’علامہ صاحب! یہ تولیہ مجھے بھی