کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 271
لیے روانہ ہونا تھا۔علامہ صاحب نے ساتھیوں سے پیسے لے لیے کہ میں آپ حضرات کی ٹکٹیں بھی لے آتا ہوں،لیکن انھوں نے صرف اپنا ایک ٹکٹ لیا۔گاڑی کے سیکنڈ کلاس کے کمپارٹمنٹ میں سب رفقا بیٹھ گئے۔علامہ حسین میر نے کسی کو برتھ اور کسی ساتھی کو نچلی سیٹوں پر بٹھا دیا،اور خود اخبارات و رسائل دیکھنے لگ گئے۔راستے میں جب کوئی چیکر آتا تو اپنا ٹکٹ دکھاتے اور جب وہ دوسروں کی طرف بڑھتا تو کہتے کہ یہ فلاں لیڈر ہیں اور یہ فلاں لیڈر،جن میں مولانا غزنوی،مولانا عطاء اﷲ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان بھی تھے۔علامہ صاحب چیکر سے کہتے کہ انھیں بے آرام نہ کریں۔یہ کئی دنوں سے سفر میں ہیں اور دہلی میں ایک جلسے سے خطاب کے لیے اب بھی سفر میں ہیں۔ چیکر معذرت کرتے ہوئے نیچے اتر جاتے،یہاں تک کہ دہلی کا اسٹیشن آ گیا۔وہاں سیکڑوں لوگ ان قائدین کے استقبال کے لیے آئے ہوئے تھے،یہاں ٹکٹیں کون پوچھ سکتا تھا۔قیام گاہ پر آکر علامہ صاحب نے کہا کہ میں نے آپ حضرات کو بغیر ٹکٹ کے سفر کرایا ہے،جب ہم انگریز کے خلاف تحریک چلا رہے ہیں تو اسے ہر جگہ ہزیمت پہنچانی چاہیے،اس کے خزانے کو بھرنا کہاں کا انصاف ہے؟ سب رفقائے ذی وقار ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اسی دور کے ملتان کے ایک جلسے کے متعلق آغا شورش کاشمیری نے ’’پسِ دیوارِ زنداں ‘‘ میں لکھا ہے کہ ملتان عام خاص باغ میں بہت بڑا جلسہ تھا،انہی چوٹی کے مقررین کا خطاب تھا اور یہ بھی دکھائی دیتا تھا کہ حالات کی سنگینی کے تحت مقررین نے جس جذبے اور مخالفت میں تقریریں کرنی ہیں،ان کا انجام جیل لازمی ہو گا۔جلسے کی صدارت کے لیے کوئی آمادہ نہیں ہو رہا تھا،نہ مقامی