کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 265
کے لیے حاضر ہیں۔ان دلیرانہ وعظ و تذکیر نے عوام الناس میں ایک انقلابی روح پیدا کر دی اور دیکھا گیا کہ بے شمار لوگ اپنے عقائد کی اصلاح کے لیے والہانہ عقیدت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
ضلعی جمعیت گوجرانوالہ کے پہلے ناظم مولانا خالد گرجاکھی،انہی مولانا نور حسین کے صاحب زادے تھے،جن کی تبلیغی و تنظیمی خدمات کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔جلسے کے اختتام پر جامع اہلِ حدیث باغ والی مسجد سانگلہ ہل کے صدر حاجی عبدالطیف نے پرجوش انداز میں علما سے تاریخیں لے کر اعلان کیا کہ آیندہ قریباً دو ہفتوں بعد ان تواریخ پر سانگلہ ہل کے باغ والی مسجد کے چوک میں تین روزہ عظیم الشان کانفرنس منعقد ہو گی،جس میں ممتاز علما خطاب کریں گے۔
چنانچہ انہی تاریخوں پر اہلِ حدیث کانفرنس کا خوب صورت انعقاد ہوا۔خطبہ جمعہ مفتی جماعت شیخ الاسلام حضرت حافظ عبداﷲ روپڑی علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا اور جمعہ کی نماز کے بعد علامہ محمد یوسف کلکتوی نے اپنی بلند بانگ آواز اور شعلہ نوائی سے خطاب فرمایا۔رات کے اجلاس میں مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی کی شان و رسالتِ مآب علیہ الصلاۃ والسلام اور مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح کی توحیدِ باری تعالیٰ کے عنوانات پر دو دو گھنٹے کی خوش بیان اور مدلل تقریریں اور مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی کی آخر میں گھن گھرج سے بھرپور تقریر مسلکِ اہلِ حدیث کے موضوع پر ہوئی۔فیصل آباد سے شبان اہلِ حدیث کے کارکنان اور جماعتی احباب کی کثیر تعداد نے بھی کانفرنس کی رونق و انتظامات کو دوبالا کیا۔اسی کانفرنس میں جماعت کے نوخیز اور ابھرتے ہوئے مقرر مولانا حافظ مشتاق احمد پرواز کو جامع اہلِ حدیث باغ والی میں بطورِ خطیب مقرر کیا گیا،جنھوں نے مستقبل میں علاقہ بھر میں مسلکِ اہلِ حدیث کی دھاک بٹھا دی