کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 259
جلسوں کے لیے ان کی ہر طرح کی معاونت ہمیں حاصل رہی۔مرکزی سطح پر ہمارے دانش مند راہنما مولانا سید محمد داود غزنوی اور مولانا اسماعیل سلفی نے مجلسِ عاملہ میں علما کے ساتھ ساتھ تاجر طبقے کی بھی نمایندگی روزِ اول ہی سے رکھ دی تھی،تاکہ مالیات کا شعبہ مالیات سمجھنے والے خود اپنے ہاتھوں انجام دیں،چنانچہ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے پہلے ناظمِ مالیات میاں عبدالمجید مجیدیہ فلو ملز مصری شاہ والے تھے۔
مجتہد العصر،مفتیِ دوراں مولانا حافظ عبداﷲ محدث روپڑی،خطیبِ پاکستان حافظ محمد اسماعیل روپڑی اور سلطان المناظرین حافظ عبدالقادر روپڑی رحمہم اللہ اور حافظ عبدالغفار روپڑی حفظہ اللہ امیر جماعت اہلِ حدیث پاکستان اور مفسرِ قرآن حافظ عبدالوہاب روپڑی حفظہ اللہ صوفی صاحب مرحوم کی عقیدتوں کے مزکر و محور تھے۔پہاڑی علاقوں ایبٹ آباد،توحید آباد،ایوبیہ اور بالاکوٹ وغیرہ مقامات پر مساجد و مدارس کی تعمیرات میں میاں فضل حق،صوفی احمد دین اور حاجی سردار محمد مرحومین نے بھاری رقوم خرچ کی تھیں،آج الحمد ﷲ یہ ادارے اپنے اپنے مقام پر مسلک کی ترویج و اشاعت کے اہم امور سر انجام دے رہے ہیں۔
جڑانوالہ کی غلہ منڈی میں مسجد اہلِ حدیث کا تنازع تقسیمِ ملک کے فوری بعد شروع ہو گیا تھا،بالآخر نصف صدی کے بعد سپریم کورٹ میں اہلِ حدیث کے حق میں فیصلہ ہوا۔اس لمبی مدت میں چند ہفتوں بعد جڑانوالہ سے میاں محمد صدیق اور میاں زکریا بھٹی مرحومین مجھے لے کر صوفی صاحب کے پاس جاتے،چنانچہ مقدمات کے اخراجات کے لیے وہ ہر بار اپنی گرہ سے لاکھوں روپے ادا کرتے۔جزاھم اللّٰہ أحسن الجزائ۔
ماہِ رمضان المبارک میں ملک کے طول و عرض سے بلکہ چند سالوں سے