کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 258
میں جماعتی و مسلکی سرگرمیوں میں اضافہ لکھا جا رہا تھا۔چنانچہ جب شبان اہلِ حدیث کے نام سے معروف تنظیم حافظ محمد اسماعیل روپڑی کے ایما پر ہم چند نوجوانوں نے تشکیل دے دی تو میرے ساتھ میاں حبیب اﷲ،چوہدری عبدالخالق،حکیم عبدالستار،پروفیسر ایس ایم شریف اور بعد ازاں شیخ بشیر احمد چیچہ وطنی والے (یہ بھی میرے والد کی ترغیب سے اہلِ حدیث ہوئے) پیش پیش تھے۔
شبان اہلِ حدیث کے زیرِ اہتمام اور صوفی صاحب کی زیرِ سرپرستی مالی اعانت سے دھوبی گھاٹ کے میدان میں تین روزہ سالانہ کانفرنس کی طرح ڈالی گئی،جس کا تسلسل سالہا سال جاری رہا۔چنانچہ چوک گھنٹہ گھر میں ہر دو تین ماہ بعد عظیم الشان جلسے منعقد کیے جانے لگے،جن کی صدارت مولانا محمد اسحاق چیمہ یا بہادر دلیر راہنما مولانا عبیداﷲ احرار فرماتے تھے۔مولانا محمد صدیق کے ساتھ حافظ اسماعیل روپڑی مقررین ہوتے۔بعض اوقات حافظ محمد اسماعیل ذبیح،سید عبدالغنی شاہ اور مولانا محمد حسین شیخوپوری خطاب فرماتے۔یہاں تک کہ جماعت کے جلیل القدر قائدین مولانا اسماعیل سلفی،مولانا عبدالمجید سوہدروی اور مولانا محمد رفیق خان پسروری کی تقریروں کے پروگرام بھی بنائے جاتے تھے۔
صوفی صاحب اور حاجی بشیر احمد صاحب کے احباب میں حاجی سردار محمد سوتر منڈی والے اور حاجی غلام محمد کوثر ٹیکسٹائلز والے کی بھی ہمیں مالی سپورٹ ہونے لگی۔ہم نے کبھی ان جلسوں کے انعقاد کے لیے چندے کی اپیل نہیں کی تھی،بلکہ اخراجات کی مدوں اور شعبوں کو ان متذکرہ امرا حضرات کے ذمے لگایا جاتا،جو صوفی صاحب کی مشاورت اور راہنمائی میں اخراجات دل کھول کر کرتے تھے۔
سید ابوبکر غزنوی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کے سانحاتِ شہادت پر تعزیتی