کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 242
سیف رحمہ اللہ اور ان سطور کے راقم کے نام خطوط لکھے،جن میں فرمایا: ’’میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث پاکستان کے دستور کی فلاں شق کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے آپ کو مرکزی مجلسِ شوریٰ کا ممبر نامزد کرتا ہوں،کیوں کہ آپ نوجوانوں میں بہت سی تنظیمی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔‘‘ اس دور میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے پورے ملک سے 150 ممبران تھے۔شوریٰ کا ممبر ہونا ایک بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔لاہور،سیالکوٹ،گوجرانوالہ،سرگودھا اور راولپنڈی کی مرکزی سالانہ کانفرنسوں میں شبان اہلِ حدیث فیصل آباد کے کارکنان نے انتظامی امور باحسن طریق انجام دیے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے قریباً ہر شہر میں جمعیت اہلِ حدیث کی ذیلی تنظیم کے طور پر ’’شبان اہلِ حدیث‘‘ کا قیام عمل میں لایا جاتا رہا۔جب دونوں دھڑے،مرکزی جمعیت اہلِ حدیث اور جمعیت اہلِ حدیث،باہم متحد ہوگئے،تو شبان اہلِ حدیث کو اہلِ حدیث یوتھ فورس میں مدغم کر دیا گیا۔ محترم بھٹی صاحب رحمہ اللہ کا تعلق چونکہ فیصل آباد سے تھا اور فیصل آباد میں مولانا محمد اسحاق چیمہ رحمہ اللہ اور مولانا عبیداللہ احرار رحمہ اللہ سے ان کی گہری دوستی تھی،یہ تینوں دوست ہم عمر بھی تھے اور بے تکلف بھی۔اس طرح خوشی غمی کے موقعوں پر جب یہ حضرات اکٹھے ہوتے تو ان کی خوش کن گفتگو اور لطائف و ظرائف سے ہم خوب محظوظ ہوتے۔ اس زمانے میں مرکز میں بھی اور یہاں فیصل آباد میں بھی جمعیت میں دھڑے بندیاں رہتی تھیں،مگر بھٹی صاحب رحمہ اللہ فریق بننے کے بجائے ہمیشہ معاملات کو سلجھانے اور غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش میں رہتے۔ملک کے بعض مقامات پر