کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 241
لی۔شہر کے محلوں اور گلیوں میں میلاد کی مجلسیں آراستہ ہونے لگیں،ان کے جواب میں شبان اہلِ حدیث کے زیرِ انتظام تبلیغی جلسوں اور کانفرنسوں کے بھرپور پروگرام ہوتے،جن میں مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ کے علاوہ اس دور کے معروف علما اور مبلغین مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح آف راولپنڈی،مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی،مولانا احمددین گکھڑوی،مولانا علی محمد صمصام،مولانا محمد یحییٰ حافظ آبادی،مولانا سید عبدالغنی شاہ (کامونکی)،مولانا عبدالمجید سوہدروی،مولانا محمد رفیق خان پسروری،مولانا حافظ عبدالحق صدیقی،مولانا محمد عبداللہ گورداس پوری،اور آگے چل کر مولانا محمد حسین شیخوپوری مولانا حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری اور علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہم اللہ وقتاً فوقتاً خطاب فرماتے۔یہ تمام علمائے کرام ریل گاڑی یا بیرون کچہری بازار،لاری اڈے سے سیدھے ہمارے غریب خانے پر تشریف لاتے،جس کے بعد والد صاحب رحمہ اللہ انھیں جلسے کے مقام پر لے جاتے۔ ان اجلاسوں کی کارروائیاں ہم روزناموں کے ساتھ ساتھ جماعتی ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ میں خاص طور پر ارسال کرتے۔ہمارے ممدوح مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ ان تبلیغی کارروائیوں اور سرگرمیوں کو نمایاں طور پر خوب سرخیاں لگا کر شائع کرتے،جن سے ہمیں حوصلہ بھی ملتا اور ضلعی و شہری جمعیتوں کو ترغیب بھی ہوتی۔ مارچ 1963ء کی سالانہ شبان اہلِ حدیث کانفرنس دھوبی گھاٹ حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی رحمہ اللہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی تھی۔محترم بھٹی صاحب رحمہ اللہ بھی مولانا کے ہمراہ تھے۔کانفرنس کی کثیر حاضری،شان و شوکت اور اعلیٰ انتظامات سے مولانا غزنوی رحمہ اللہ بے حد متاثر و مسرور ہوئے۔لاہور واپس جاکر انھوں نے محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کی تحریک پر ہم تین رفقا میاں حبیب اللہ،قاضی محمد اسلم