کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 240
طالبِ علمی اور لڑکپن کا دور تھا،لیکن والد صاحب رحمہ اللہ کی جماعتی سرگرمیوں کے اثرات شروع دن سے مجھ پر بھی رہے۔للہیت اور ہر دل عزیزی کے باعث علما ان کی بڑی قدر کرتے،وہ بھی علما و صلحا کی خدمت کرکے عجب فرحت سے سرشار رہتے۔والدہ مرحومہ نے بھی ان حضرات کی مہمان نوازی میں اپنے نیک خاوند کا پورا پورا ساتھ دیا۔رب ارحمھما کما ربیاني صغیرا۔
غالباً 1957ء میں مولانا سید محمد داود غزنوی رحمہ اللہ کے ایما پر اور حضرت حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمہ اللہ کی تجویز پر شہر کے اہلِ حدیث نوجوانوں کی تنظیم ’’شبان اہلِ حدیث‘‘ کے نام سے تشکیل دی گئی۔ابتدائی طور پر ہمارے رفقا میاں حبیب اللہ اکاؤنٹنٹ جامعہ سلفیہ،ٹیچر لائل پور کاٹن ملز ہائی سکول،میاں عبدالکریم (جو بعد میں جماعتِ اسلامی میں چلے گئے اور آج تک اس سے وابستہ ہیں ) ،حکیم عبدالستار مرحوم،حاجی محمد یوسف مربّہ والے،حاجی عبدالقادر مربّہ والے،حاجی محمد یعقوب (ہلال ٹیکسٹائل پرنٹ)،شیخ عبدالستار (ماڈل ٹاؤن)،چوہدری عبدالخالق چیمہ اور ماسٹر فتح محمد اسلام نگری تھے۔لیکن چند سال بعد مولانا محمد طیب معاذ،پروفیسر محمد شریف،حاجی شیخ محمد اسماعیل (نشاط ملز) ،شیخ بشیر احمد چیچہ وطنی والے اور دوسرے بہت سے احباب اس تنظیم میں شامل ہو گئے اور اس کے سرگرم کارکن ثابت ہوئے۔بس یوں سمجھیے:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل
لوگ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا
انہی دنوں حضرت مولانا محمد صدیق مرحوم بطور خطیب مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث امین پور بازار تاندلیانوالہ سے فیصل آباد منتقل ہوگئے۔ادھر جھنگ بازار،گول باغ میں بریلوی مولوی سردار احمد کے حلقے کے لوگوں نے ’’رضوی مسجد‘‘ تعمیر کر