کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 219
کانفرنسوں منعقدہ اپریل 1979ء کے موقع پر آپ کا خطبہ صدارت معرکہ آرا اور تاریخی نوعیت کا تھا۔اسی کانفرنس میں علامہ احسان الٰہ ظہیر کی خطابت بھی پورے جوبن پر تھی۔اس عظیم الشان کانفرنس میں امامِ حرم الشیخ محمد بن عبداﷲ بن سبیّل مرحوم نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا تھا۔
مولانا لکھوی نے جماعت کے قدیمی ادارے جامعہ محمدیہ کے ناظم کی حیثیت سے مصروفیات کے اس اہم ترین شعبے میں بھاری ذمے داریاں نبھائیں۔تعمیرِ نو کا جب بیڑا اٹھایا تو جامعہ کے شایانِ شان اور خوب صورت جدید ترین بلڈنگ کی تعمیر کر ڈالی۔سالانہ اخراجات کے لیے الگ دورے کر کے اساتذہ و طلبا کو بہتر سے بہتر سہولتیں مہیا کرنے میں کبھی بخل سے کام نہ لیتے۔سالانہ تقریبِ بخاری کے مبارک موقع پر علمی شخصیات کو مدعو فرماتے اور عوام الناس کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے عوامی مقررین کی تقاریر بھی پروگرام کا حصہ ہوتیں۔
فیصل آباد کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ مولانا علیہ الرحمۃ ہر رمضان المبارک کا دوسرا جمعہ ہماری مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث امین پور بازار میں ارشاد فرماتے۔یہ سلسلہ برسوں پیشتر مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ کی عرضداشت پر انھوں نے تا زندگی جاری رکھا۔مولانا علیہ الرحمۃ اُن صلحائے امت کے گروہِ پاکباز سے تعلق رکھتے تھے جو رعایت کے بجائے عزیمت کو مقدم رکھتے تھے۔سفر و حضر میں نمازیں جمع کرنے کے بجائے وقت پر ادا کرتے۔شدید سردی کے موسم میں ایک دفعہ فیصل آباد میں تشریف رکھتے تھے،نماز کے وقت ہم سب نے جرابوں پر مسح کیا،مگر مولانا نے جرابیں اتار کر پاؤں دھوئے۔میں نے عرض کی: ’’حضرت آپ اس موسم میں مسح کر لیتے؟‘‘ فرمانے