کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 213
رہایش گاہ ملتان روڈ پر آناجانا زیادہ رہا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 1975ء یا 1976ء میں مقبوضہ کشمیر سے ایک جماعتی وفد،جس میں مولانا نور الدین اور وہاں کے روزنامہ جماعتی اخبار ’’المسلم‘‘ کے مدیر اور حال ہی میں شہید ہونے والے مولانا شوکت شاہ بھی تھے،پاکستان تشریف لائے تو ان کے لاہور میں مختصر قیام کے دوران میں میاں صاحب کی اسی کوٹھی میں مختصر نوٹس پر استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی،جس میں لاہور کے چند نمایاں حضرات شامل تھے۔مولانا شوکت شاہ نوجوان تھے اور بڑی تیز گفتگو کرتے تھے،ان کا نظریہ جمہوری معلوم ہوتا تھا اور وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری ہی کو مسئلہ کشمیر کا اصل حل سمجھتے تھے۔ میاں نعیم الرحمان اس قسم کے سبھی پروگراموں اور محفلوں کے انتظامات خوش اسلوبی سے نبھاتے۔روزہ مرہ ہی علما اور کارکنانِ جمعیت کی آمد و رفت بھی ان کے ہاں رہتی۔میاں فضل حق صاحب کی عدم موجودگی میں ان کے خور و نوش اور دیگر مسائل کی انجام دہی میں بھی وہ کوشاں رہتے۔الغرض دس سالہ اپنے عرصۂ ادارت میں،میں دیکھتا رہا کہ میاں نعیم الرحمان کی بھاگ دوڑ اور گھریلو کام کاج کی نسبت جماعتی کاموں کی ترجیحات دیدنی ہوتی،لیکن ان کے انتقال پر اب صورتِ حال شاعر کی زبان میں کچھ اس طرح ہے ع تو کیا گیا کہ رونقِ بزمِ جہاں گئی رنگِ بہار دید کے قابل نہیں رہا میاں نعیم الرحمان واقعتا رونقی اور مجلسی آدمی تھے۔جامعہ سلفیہ میں آتے تو اساتذہ و طلبا کے ساتھ خوش طبعی کرتے ہوئے گھل مل جاتے۔مرکزِ جماعت کے اجلاسوں میں ہوتے تو ان سے مل کر طبیعت میں ایک قسم کی فرحت سی آ جاتی۔ہر