کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 191
آج سے پچیس تیس برس پیچھے چلے جائیں تو علم و فضل اور زہد و تقویٰ کی ایسی شخصیات حیات تھیں،جنھیں ہمارے بزرگ اور مردم شناس عالمِ دین مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف گاہے گاہے اپنے ادارہ تعلیماتِ اسلامیہ میں مدعو کرتے۔ذکر و فکر اور تزکیہ و اصلاح کی کئی روز تک محفلیں آراستہ کرتے،مدعوین میں ایسی پاکباز ہستیاں ہوا کرتی تھیں،جن کے روحانی کمالات اور تقویٰ و عفاف سے لوگ خوب استفادہ کرتے اور اپنے قلوب کو ان کے فیوض سے منور کرتے،ان اصحابِ فضیلت میں مولانا حافظ محمد یحییٰ عزیز کو بھی ممتاز مقام حاصل تھا،دیگر حضرات میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی ذہن میں اس طرح آ رہے ہیں: حضرت مولانا سید مولانا بخش کوموی حضرت مولانا محی الدین لکھوی حضرت شیخ الحدیث مولانا عبداﷲ جھال خانوآنہ حضرت شیخ الحدیث محمد عبداﷲ ویرووالوی حضرت مولانا سید ابوبکر غزنوی حضرت مولانا حکیم محمد عبداﷲ آف جہانیاں حضرت مولانا محمد یحییٰ شرقپوری رحمۃ اللّٰہ علیھم أجمعین المیہ تو یہ ہے کہ اس قافلۂ صدق و صفائی کی آخری نشانی بقیۃ السلف حافظ محمد یحییٰ بھی اﷲ کو پیارے ہو گئے۔اب ایسی روح پرور مجالس کہاں ؟ مادی اور نفسی نفسی کے اس دورِ انحطاط میں معیار بدل گئے ہیں،خلوص و عفاف اور شرافت و نجابت صرف نام کی حد تک رہ گئی ہیں۔روحانیت اور قلبی صالحیت کی جگہ نمود و نمایش ہی