کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 177
گئے تو دونوں بھائیوں نے تادیر قرآن و سنت کی بارش سے دلوں کی آبیاری کی اور اس طرح کراچی میں اہلِ حدیث کی دھاک بیٹھ گئی۔ ہمارے کراچی قیام ہی کے دنوں کا واقعہ ہے کہ شہر میں نمازِ تراویح کی تعداد کا مسئلہ چل نکلا۔دیوبندی مولانا احتشام الحق تھانوی کو بھی،اگرچہ وہ معتدل مزاج اور بڑے شیریں نوا مقرر تھے،اس بحث میں گھسیٹ لیا گیا۔دونوں طرف سے اشتہارات چھپ گئے۔حضرت قاری صاحب میدان میں ڈٹ گئے اور مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔قاری صاحب کی تقریروں اور حافظ محمد اسماعیل صاحب کے اخباری بیانات پر مولانا تھانوی خاموش ہو گئے۔پھر کیا تھا،جگہ جگہ قاری صاحب کی للکار سنائی دینے لگے،نتیجتاً مسلک اہلِ حدیث کی تقویت اور فروغ کے لیے فضا ساز گار ہوتی چلی گئی ع بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ تمھی سو گئے داستان کہتے کہتے فیصل آباد میں جب ان کا آنا ہوتا تو ہم شہر کے علما کے ساتھ کوئی نہ کوئی مجلس قائم کرتے۔مولانا عبدالرحیم اشرف،مولانا محمد صدیق،مولانا محمد اسحاق چیمہ اور مولانا محمد شریف اشرف رحمہم اللہ جیسے علم و عمل کے پہاڑ اور فہم و فراست کے لوگ اب کہاں پیدا ہوں گے۔اسی حلقۂ علما میں قاری صاحب کی شرکت ہوتی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں اسلامائزیشن کے جو اقدامات کیے گئے،ان دنوں اسلام آباد میں ہونے والے علما کنونشنوں میں مرکزی جمعیت کے وفود میں قاری صاحب کی شمولیت لازمی ہوتی۔دو تین ایسے موقعوں پر راقم بھی ان وفود میں جاتا رہا،بہرحال یہ صحبتیں اور رفاقتیں بھلائی نہیں جا سکتیں۔