کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 161
کے دور دراز علاقوں سے بسوں،ویگنوں اور ٹرالوں اور موٹر سائیکل سواروں کا ایک اِزدحام دیکھنے میں آتا ہے۔اب کی بار خطیبِ پاکستان کی آمد آمد کے باعث معمول سے زیادہ اہتمام تھا اور حاضرین اور مہمانوں کی شمولیت کے مناظر بھی دیدنی تھے۔ کانفرنس کے بہت سے ممتاز مقررین محترم میاں جمیل لاہور،قاری عبدالوکیل آف خانپور،رانا محمد شفیق خان پسروری اور قاری محمد حنیف ربانی کی تقریروں کے تسلسل کے بعد جوں ہی مولانا محمد حسین اسٹیج پرجلوہ افروز ہوئے تو فضا نعرہ ہائے تکبیر اور خطیبِ پاکستان زندہ باد کے شور اور جوش و خروش سے جھوم جھوم گئی۔اسٹیج پر بیٹھے شہر کے علما و صلحا مولانا محمد طیب معاذ،مولانا حافظ مسعود عالم،مولانا حافظ محمد شریف،شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالعزیز،مولانا عبداﷲ حجازی،مولانا محمد یاسین ظفر اور مولانا نجیب اﷲ طارق وغیرہم کو دیکھتے ہی حضرت مولانا شیخوپوری کا متبسم چہرہ خوشی و مسرت سے کھل اٹھا،گویا وہ زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں ع پھلا پھولا رہے یا رب یہ چمن میری امیدوں کا جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں حضرت شیخوپوری نے پیش رو مقررین کے بعد کانفرنس کے موضوع کی مناسبت سے مناقب و مراتب خلفائے راشدین،فضائلِ صحابہ کرام و اہلِ بیت عظام کے تحت ایسے سحر انگیز انداز میں بیان سے قرآنِ حکیم کی آیات کی تلاوت کی کہ ان کے بڑھاپے کے بجائے ع ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا کا احساس ہوتا اور ان کے فصیح و بلیغ ایک ایک جملے اور بروقت اشعار و لطائف سے سوز و گداز جھلکتا اور حسنِ اخلاص نمایاں ہو رہا تھا۔اس میں شک و شبہہ نہیں کہ