کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 160
وہاں لازماً شرکت کرتے اور فرماتے کہ مولانا محمد حسین قرآنِ حکیم میں سے عجیب استنباط و نکات پیدا کرتے ہیں۔
مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی کی طرزِ خطابت اور شیریں کلامی کا تلذذ و لطف بیان سے باہر ہے،مگر ملتان میں جمعیت تبلیغِ اہلِ حدیث (جس کے بانی مولانا شرف الحق،برادرِ اصغر مولانا شمس الحق تھے) کی سالانہ کانفرنس باغ عام خاص کے منتظمین سے مولانا شیخوپوری کا تعارف کراتے ہوئے حافظ محمد اسماعیل نے راقم کی موجودگی میں فرمایا: ’’آپ لوگ انھیں سنیں گے تو مجھے بھول جائیں گے۔‘‘
مولانا شیخوپوری اس دور میں ابھی فیصل آباد گوجرہ اور ٹوبہ سے آگے نہیں گئے تھے اور پہلی مرتبہ ملتان آئے تھے۔یہ کوئی 1958ء کی بات ہو گی،چنانچہ جب ملتانیوں نے ان کا دلنشین اندازِ تقریر سنا تو مولانا کے ہر جملے پر داد و تحسین کے دریا بہاتے چلے گئے۔
فیصل آباد میں مولانا شیخوپوری کا آخری پبلک خطاب گذشتہ محرم میں خلافتِ راشدہ کانفرنس میں ہوا۔منٹگمری بازار میں کئی سالوں سے منعقد ہونے والی یہ سالانہ کانفرنس ایک تاریخی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔کانفرنس کی سرپرستی محترم مولانا ارشاد الحق اثری،اس کی نگرانی مولانا عبدالحی انصاری اور صدارتی ذمے داریاں راقم کے سپرد ہوتی ہیں۔کانفرنسوں کی تشہیر اور وسیع پیمانے پر انتظامات کرنے میں مولانا حافظ عبدالرحمان آزاد،مولانا حکیم ثناء اﷲ،قاری بشیر احمد اور اہلِ حدیث یوتھ فورس کے قائدین حافظ محمد شفیق ظہیر،حافظ محمد یونس ربانی،ڈاکٹر عبدالمنان،عبدالغفار ثاقب اور ان کے رفقا و کارکنان پیش پیش ہوتے ہیں۔شہر اور مضافاتی کالونیوں،محلوں اور قصبات اور دیہی مقامات سے اچھی خاصی تعداد میں سامعین کی شرکت ہوتی ہے۔ضلع