کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 140
قبل جب انھوں نے ’’امِ کلثوم بنتِ علی‘‘ شائع کی تو شیعہ مناظر مولوی اسماعیل نے فیصل آباد کی ایک عدالت میں استغاثہ کر دیا۔مولانا محمد صدیق شیعہ کتب لے کر عدالت میں چلے گئے کہ اگر کوئی حوالہ غلط ہے تو اصلاح کے لیے تیار ہوں،اگر عبارات کا ترجمہ غلط ہے تو جو ترجمہ یہ لوگ کریں،وہی درج کیے دیتا ہوں۔آخر مایوس اور لاجواب ہو کر یہ لوگ مقدمے کی پیروی سے دستکش ہو گئے۔
1973 میں ساہیوال کے ایک مولوی غلام حسین نے ’’نعیم الابرار‘‘ نامی کتاب شائع کی،جس کے آخر میں بڑے بلند بانگ دعاوی کے ساتھ اہلِ سنت پر بائیس سوالات بصورتِ اعتراضات کیے اور قدِ آدم اشتہار چیلنج کے طور پر شائع کیا،جس میں لکھا گیا کہ تاقیامت ان سوالوں کا جواب کوئی نہیں دے سکے گا۔مولانا مرحوم نے ’’کشف الاسرار‘‘ کے نام سے ان سوالات کا ایسا مسکت و مدلل جواب شائع کیا کہ آج تک شیعہ لابی جواب الجواب دینے سے قاصر ہے۔
ملکی تحریکوں میں فیصل آباد کا نام ہمیشہ سرِفہرست اور اونچا رہا ہے،خصوصاً 1974ء کی تحریکِ ختمِ نبوت اور 1977ء میں تحریکِ نظامِ مصطفی کے دوران میں فیصل آباد کی دینی قیادت میں ہمارے مولانا کا رول کسی سے کم نہیں۔مولانا مفتی زین العابدین،مولانا تاج محمود،مولانا عبدالرحیم اشرف،صاحبزادہ افتخار الحسن ہمارے مولانا محمد صدیق کی علمیت و سیاسی بصیرت کے معترف اور اُن کی رفاقت و مشاورت کو بڑی وقعت دیتے۔فیصل آباد کی اس دینی قیادت کی آواز پر پورا ملک ہمیشہ لبیک کہتا۔
ان اکابر کی مہینے میں ایک دو بار مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف کے دولت کدے جناح کالونی میں نشستیں منعقد ہوتی رہتیں،جن میں موقع و مقتضائے حال کے مسائل زیرِ بحث آتے۔حکیم صاحب کے بڑے صاحب زادے جناب ڈاکٹر زاہد اشرف کی