کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 139
وسیع مواقع میسر آئے،ملک کے بیشتر شہروں میں ان کے ہمراہ تبلیغی سفر کرنے کی سعادت بھی رہی،انھیں ہمیشہ مشفق،خوش اخلاق و خوش اطوار،مرنجاں مرنج اور باوقار عالمِ دین پایا۔ اگرچہ وہ ہر موضوع پر تقریر کرنے کی قدرت رکھتے تھے،لیکن شیعہ مذہب کے مطالعہ اور تردید میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔جراَت کا یہ عالم تھا کہ غالباً 1957ء کے رمضان المبارک کی ایک رات جامع اہلِ حدیث امین پور بازار کے قریب امام بارگاہ میں ایک ذاکر نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کی اور چیلنج کیا کہ کوئی سُنی ابوبکر کو صدیق ثابت کرے۔مولانا کی رہایش اُن دنوں جامع اہلِ حدیث سے ملحقہ مکان میں تھی،آپ فوراً شیعہ کی مشہور کتاب ’’کشف الغمہ‘‘ بغل میں لیے اکیلے امام بارگاہ میں آ کر اسٹیج پر چڑھ گئے اور ذاکر کے آگے سے مائیک ہٹا کر اپنے آگے کر لیا اور کہا کہ صدیق رضی اللہ عنہ کی صداقت آج ایک صدیق ہی ثابت کرے گا۔پھر صداقتِ ابوبکر رضی اللہ عنہ انہی کی کتاب سے ثابت کر دی،جس پر مجلس میں ایک سناٹا چھا گیا۔مولانا کا اﷲ تعالیٰ نے ایسا رعب طاری کر دیا کہ کسی کو مداخلت کی ہمت نہ ہو سکی۔ چند روز بعد ستائیسویں کی رات تھی۔شہر کی تمام مکاتبِ فکر کی مساجد میں مولانا محمد صدیق کی جراَت اور دلیری کو علما سراہ رہے تھے۔جھنگ بازار جامعہ رضویہ کی مرکزی مسجد میں مشہور بریلوی مولوی عمر اچھروی نے ساری رات مولانا محمد صدیق کی تعریف و توصیف اور تحسین کی۔ مولانا محمد صدیق منجھے ہوئے مصنف بھی تھے۔چھوٹے چھوٹے رسائل کے علاوہ ایک اہم تصنیف ’’امِ کلثوم بنتِ علی،فاروقِ اعظم کے نکاح میں ‘‘ اور ایک اور ضخیم تصنیف ’’کشف الاسرار‘‘ ان کی معرکہ آرا کتابیں ہیں۔قریباً آج سے پچیس تیس برس