کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 138
کے سرگرم و فعال ناظمِ اعلیٰ میاں فضل حق کا خصوصی تعاون مرکزی سطح پر انھیں حاصل رہا۔ مقامی طور پر مولانا عبید اﷲ احرار،مولانا محمد اسحاق چیمہ،مولانا عبدالواحد،حاجی فیروز دین،حاجی عبدالکریم مسافر،حاجی عنایت اﷲ،مولانا یعقوب،مولانا حکیم نور دین،صوفی احمد دین،شیخ بشیر احمد،حاجی مختار احمد،حاجی محمد یوسف چغتائی،حاجی سردار محمد اور حاجی غلام محمد رحمہم اللہ جیسے علما و تاجر طبقے کی معاونت حاصل رہی۔یہی وجہ ہے کہ ان مخلصین کی شبانہ روز محنت اور توجہات سے جامعہ سلفیہ آج ایک ایسی بین الاقوامی شہرت کی حامل درس گاہ تصور کی جاتی ہے کہ جس کے فضلا ملک اور بیرونِ ملک دنیا کے اطراف و اکناف میں بیشتر مقامات پر دعوت و ارشاد اور تبلیغ و تدریس میں مصروف نظر آتے ہیں۔جامعہ کی اسناد اور وفاق المدارس سلفیہ کا تخصص عالمِ اسلام میں ایک مقام رکھتا ہے۔ جامعہ کی ان خدمات کے علاوہ بطور خطیب مولانا محمد صدیق نے بہت سے تاریخی کارنامے انجام دیے۔فیصل آباد آمد کے ساتھ ہی انھوں نے مسلک کی تبلیغ و اشاعت کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے نوجوانوں کی تنظیم ’’شبان اہلِ حدیث‘‘ کے نام سے منظم کی اور پھر اس جوان خون کے زیرِ اہتمام شہر اور ضلع میں بڑی بڑی سالانہ کانفرنسوں اور تبلیغی جلسوں کا انعقاد کیا،بلکہ محلہ محلہ گاؤں گاؤں خالص کتاب و سنت کی تبلیغ عام ہوئی اور شرک و بدعات کا پھیلاؤ رُک گیا۔ان پروگراموں میں ملک کے معروف علما و مبلغین کی شرکت بھی ہوتی،لیکن مولانا محمد صدیق کی شعلہ نوائی اور خطابت ایک نمایاں مقام رکھتی تھی۔ ان سطور کے راقم کو مختلف ادوار میں شبان کے صدر،سیکرٹری جنرل اور شہری جمعیت اہلِ حدیث کے ناظم کی حیثیت سے مولانا مرحوم کی قیادت میں کام کرنے کے