کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 137
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ابتدائی دینی تعلیم قریبی گاؤں لکڑوالہ میں مولوی دین محمد مرحوم سے حاصل کی۔جس کے بعد علاقے کے معروف اور ولی اﷲ بزرگ عالمِ دین مولانا میاں محمد باقر کے مدرسہ جھوک دادو میں داخلہ لیا اور حضرت حافظ محمد عبداﷲ بڈھی مالوی سے سندِ فراغت حاصل کی،پھر حافظ محمد گوندلوی کی خدمت میں حاضر ہو کر دوبارہ صحیح بخاری پڑھی۔مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی اور مولانا شرف الدین دہلوی سے بھی انھیں شرفِ تلمذ حاصل ہوا۔
برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی انھوں نے خطابت اور فنِ مناظرہ میں نام پیدا کر لیا تھا۔1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے زمانے میں تاندلیانوالہ جیسے دیہی قصبے کو بڑی شہرت ملی،جس کی وجہ مولانا محمد صدیق خطیب مرکزی جامع مسجد اہلِ حدیث غلہ منڈی تاندلیانوالہ اور شاعرِ توحید و سنت مولانا محمد ابراہیم خادم کا وہاں مرزائیت کے خلاف اس تحریک میں نمایاں کردار تھا۔اس راہ میں دونوں رفقا نے کئی ماہ تک قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
اوائل 1955ء میں آپ فیصل آباد تشریف لائے۔نقل مکانی کا سبب یہ ہوا کہ مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی عظیم درس گاہ جامعہ سلفیہ کی انہی دنوں بنیاد رکھی گئی،مگر ضروری عمارت کی تعمیر سے قبل طے پایا کہ جامع مسجد اہلِ حدیث مرکزی امین پور بازار میں کلاسوں کا اجرا کر دیا جائے۔جامعہ کے انتظامی امور اور مسجد کی خطابت کے لیے حضرت مولانا محمد داود غزنوی کی نگاہِ مردم شناس مولانا محمد صدیق پر پڑی،چنانچہ مولانا محمد غزنوی کے مجبور کرنے پر مولانا محمد صدیق مستقل طور پر فیصل آباد رہایش پذیر ہو گئے۔خطابت کے فرائض،جامعہ کی نظامت اور تدریسی ذمے داریوں کو ابتدائی مشکلات کے باوجود انھوں نے خوب نبھایا۔اس سلسلے میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث