کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 127
ختمِ قرآن کی دعاؤں میں بارہا ہم نے دیکھا کہ خود بھی بارگاہِ رب العزت میں آہیں بھرتے ہوئے گرگڑا رہے ہیں اور مقتدیوں کو بھی رُلا رہے ہیں،یہاں تک کہ سحری کے وقت﴿ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾کا سماں بندھ جاتا۔ایسا کیوں نہ ہو کہ یہ وہی محراب ہے جہاں حضرت سید عبدالواحد غزنوی اور حضرت سید محمد داود غزنوی کی قراء ت اور آہ و زاریاں ﴿ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾کی منظر کشی کرتی رہیں۔
نصف صدی قبل کی بات ہے کہ دھوبی گھاٹ کے میدان میں سید عطاء اﷲ شاہ بخاری کو خطاب کرتے ہوئے راقم نے خود سنا:
’’میں نے صرف ایک مرتبہ نمازِ فجر حضرت سید عبدالواحد غزنوی کی امامت میں ادا کی ہے،جس کی لذت و تاثیر آج تک قلب و جگر سے محو نہیں ہو سکی۔‘‘
علامہ احسان بھی تو یقینا انہی پاکبازوں کے جانشین اور روحانی فرزند تھے،جنھیں روحانیت کے ساتھ ساتھ قدرت نے شگفتہ بیانی اور آب دار خطابت بھی عطا فرمائی تھی۔
میرے والد مرحوم اور علامہ صاحب کے والد حاجی ظہور الٰہی ایک دوسرے سے گہری عقیدت و محبت رکھتے تھے۔حاجی صاحب کاروباری سلسلے میں مہینے میں ایک دو بار فیصل آباد آتے تو والد صاحب سے ضرور ملتے۔علامہ صاحب کے ایک چھوٹے بھائی کا رشتہ فیصل آباد میں حاجی محمد شریف مرحوم (ماجھا کلاتھ ہاؤس) کے ہاں والد صاحب نے کرایا تھا۔
23 مارچ 1987ء کو علامہ صاحب اور ان کے رفقا کی شہادت سے ملک کے دینی حلقوں میں اندھیرا چھا گیا۔جگہ جگہ احتجاج اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ چل نکلا جو