کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 126
کرو،وہ جماعت کے کسی دھڑے یا گروپ سے تعلق رکھتے ہوں،لیکن اکابر کی قائم کردہ ’’مرکزی جمعیت اہلِ حدیث‘‘ کے ساتھ وابستہ رہو۔بحمد اﷲ میرا طرزِ عمل یہی ہے اور ضمیر مطمئن ہے۔ ویسے تو علامہ صاحب کی ہر جگہ کی تقریر اور بڑے بڑے جلسوں میں کیا گیا ہر مقام کا خطاب مدلل و موثر اور اسلوبِ بیان کا ایک نرالا انداز لیے ہوئے ہوتا،لیکن کچھ مقامات کی سالانہ کانفرنسوں،مثلاً: ماموں کانجن کانفرنس،محرم میں بیگم کوٹ لاہور کی سالانہ فضائلِ صحابہ کانفرنس،چوک گھنٹہ گھر گوجرانوالہ کی ماہِ ربیع الاول میں سیرت کانفرنس،چنیوٹ کی آل پارٹیز ختمِ نبوت کانفرنس اور اقبال پارک لاہور کے عیدین کے اجتماعات میں خطبات پورا سال یاد رکھے جاتے اور آیندہ سال کے لیے لوگ منتظر رہتے۔تحریکِ ختمِ نبوت اور تحریکِ نظامِ مصطفی کے دوران میں مسجد شہدا لاہور اور دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں کی گئی تقاریر تاریخی نوعیت کی تھیں۔فیصل آباد دھوبی گھاٹ کے ایک بڑے جلسہ عام میں علامہ صاحب کے دلنشین اور ولولہ انگیز خطاب کے بعد نواب زادہ نصر اﷲ خان اور آغا شورش کاشمیری اپنی تقریروں میں علامہ صاحب کی تحسین کیے بغیر نہ رہ سکے۔ علامہ صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔خوش جمال اور خوش جلال اور جراَت و استقامت میں ڈوبے ہوئے لب و لہجے کے پیکر تو وہ تھے ہی،تاہم کسی محفل کو کشتِ زعفران بنا دینا یا موقع کی نزاکت سے بڑھک لگا کر مخالف کے چہرے کو لٹکا دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا،مگر ان کا ایک وصف سوز و گداز اور رقت و خشوع بھی تھا۔جب وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ بیان کرتے تو ان کی آنکھیں پرنم ہو جاتیں۔مسجد چینیاں والی میں نمازِ تراویح پڑھاتے ہوئے اور