کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 111
گیا۔اگر اس آئین کے مطابق وقتِ مقرر پر انتخابات ہو جاتے اور 1958ء کا مارشل لاء نہ لگتا تو ملک کا مستقبل بہتر صورت اختیار کر جاتا،مگر ع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! پھر جنرل ایوب نے 1962ء کا دستور دیا،جس کے خلاف چند سالوں بعد تحریک چلی۔حبیب جالب نے کہا تھا ع ایسے دستور کو،صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا،میں نہیں جانتا حضرت حافظ ذبیح صاحب سے ہمارے آبائی تعلقات تھے۔میرے والد اور حافظ صاحب کا گاؤں مشرقی پنجاب کا زرخیز خطہ بھاؤوال تھا،جو قصور اور موضع پٹی کے درمیان گھڑیالہ ریلوے اسٹیشن سے دو اڑھائی میل کی مسافت پر تھا۔جماعتی لحاظ سے گھڑیالہ وہ تاریخی قصبہ ہے جہاں متحدہ پنجاب کے امیرِ جمعیت حضرت مولانا سید محمد شریف گھڑیالوی مقیم تھے۔حضرت حافظ صاحب کے والدین ان کی چھوٹی عمر میں وفات پا گئے تھے،ان کے تایا حافظ صاحب کو اور اپنے بیٹے حافظ ثناء اﷲ (ثنائی دواخانہ ریلوے روڈ لاہور) کو دہلی مدرسہ رحمانیہ دینی تعلیم کے لیے چھوڑ آئے۔حصولِ علم کے بعد وہ چند ماہ جامع مسجد اہلِ حدیث پٹی منڈی کی مسجد اہلِ حدیث میں خطیب رہے۔بعد ازاں امرتسر کی مشہور تحصیل ترن تارن،جو پٹی سے دو ریلوے اسٹیشن آگے امرتسر کی جانب خوب صورت شہر تھا،وہاں تقسیمِ ملک تک خطابت کا فریضہ انجام دیتے رہے۔پاکستان بننے سے ایک سال قبل وہاں حافظ صاحب کے زیرِ اہتمام ان کی مسجد سے ملحقہ میدان میں جماعت کا بہت بڑا جلسہ منعقد ہوا تھا۔ حافظ صاحب کے ارشاد پر میرے والد ترن تارن جا رہے تھے،اصرار پر میں