کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 110
ہماری مساجد اور دینی مدارس کا جال بچھا ہوا ہے۔[1]
حضرت حافظ صاحب اگرچہ پختہ کار سیاست دان تو نہ تھے،مگر سیاسی شعور بھی خوب رکھتے تھے۔1956ء میں گوجرانوالہ میں جو آل پاکستان اہلِ حدیث کانفرنس ہوئی تھی،اس کے صدر کانفرنس فضیلۃ الشیخ علامہ خلیل عرب آف کراچی تھے اور صدر استقبالیہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی تھے،اس وقت ملک کے وزیر اعظم چوہدری محمد علی تھے۔1956ء کا آئین اسمبلی میں زیرِ بحث تھا۔سیاسی و دینی حلقوں میں ایک اہم دستوری مسئلہ موضوعِ سخن تھا کہ آیندہ انتخابات جداگانہ بنیادوں پر ہوں یا مخلوط؟ سیکولر حلقہ مخلوط انتخابات چاہتا تھا،دینی جماعتیں آج کی طرح اتنی منظم نہیں تھیں۔ملک میں مرکزی جمعیت اہلِ حدیث اور اس کی قیادت کا ایک نام اور شہرہ تھا۔
شبان رضاکار کے طور پر میری ڈیوٹی اسٹیج پر تھی۔میں نے دیکھا کہ حضرت حافظ محمد اسماعیل ذبیح نے نہایت جچے تلے الفاظ میں جداگانہ انتخابات کے حق میں قرارداد لکھی اور صدرِ اجلاس مولانا سید محمد داود غزنوی کی اجازت سے مائیک پر آکر بڑی گھن گھرج کے ساتھ پیش فرمائی۔قرارداد کی تائید میں حضرت مولانا محمد اسماعیل،حضرت مولانا عبدالمجید سوہدروی اور صدرِ اجلاس مولانا غزنوی نے اپنے اپنے فصیح و بلیغ اور دلنشین انداز میں تقریریں کیں۔سامعین کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے پرجوش نعروں سے اس کی توثیق کی۔ملکی حالات کے تناظر میں اگلے روز اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ اس قرارداد اور تائید کنندگان کی تقریروں کو شائع کیا،بس پھر پورے ملک کی آواز جداگانہ انتخابات بن گئی اور اسے 1956ء کے آئین کا حصہ بنایا
[1] افسوس کہ مولانا عبدالعزیز حنیف بھی 9 ستمبر 2016ء کو وفات پا گئے۔اﷲ تعالیٰ انھیں غریقِ رحمت کرے اور اُن کی دینی مساعی کو قبول فرمائے۔