کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 109
اس دوران میں ان کی میزبانی سے ہمیشہ کی طرح خوب لطف اندوز ہوتے رہے۔راولپنڈی سے واپسی پر بھابھڑہ بازار کی یونائیٹڈ بیکری کی اسپیشل آئٹم باقرخانیاں بھی تحفے میں عطا فرماتے۔اس وقت پنڈی کی یہ سوغات سمجھی جاتی تھی۔ 1968ء کی مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کی سالانہ کانفرنس لیاقت باغ راولپنڈی میں منعقد ہوئی تھی،جس کی صدارت حضرت حافظ محمد گوندلوی امیر مرکزی جمعیت نے فرمائی تھی اور اس کی مجلسِ استقبالیہ کے صدر حضرت حافظ ذبیح صاحب تھے۔راولپنڈی کی یہ عظیم الشان کانفرنس اس لحاظ سے امتیازی حیثیت کی حامل تھی کہ اس کے مقررین میں حضرت مولانا سید بدیع الدین شاہ راشدی آف سندھ،حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر،حضرت حافظ عبدالحق صدیقی ساہیوال،حضرت مولانا محمد حسین شیخوپوری جیسے چوٹی کے علما تھے۔ کانفرنس کی بعض نشستوں کی صدارت مرکزی وزرا نے کی اور مہمانِ خصوصی کے طور پر اسلامی ممالک کے کچھ سفیر حضرات نے بھی شمولیت کی تھی۔اس کانفرنس کے جملہ امور پنڈال کی تزئین و آرایش،کثرتِ حاضرین،موثر تقاریر و خطابات اور قیام و طعام کے وسیع و پرلطف انتظامات میں حضرت حافظ صاحب کی انتظامی صلاحیتیں عروج پر تھیں۔اسی موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع اہلِ حدیث کا سنگِ بنیاد امیر جمعیت حضرت حافظ محمد گوندلوی نے اپنے دستِ مبارک سے رکھا،جس میں ذبیح صاحب کے شاگردِ رشید ہمارے فاضل دوست مولانا عبدالعزیز حنیف روزِ اول سے آج تک خطیب چلے آ رہے ہیں۔اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انھیں صحت و عافیت والی لمبی زندگی عطا فرمائے،جن کی تبلیغی کاوشوں سے آج اسلام آباد میں بہت سی