کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 108
حافظ صاحب کی تدریسی مساعی کے فوائد دور دور تک پہنچے،ان کے شاگردوں کا حلقہ بڑا وسیع ہے،جنھوں نے اُن سے صحیح بخاری اور منتہی کتب کا درس لیا۔آج ملک کے اطراف و اکناف میں ان کے تلامذہ دین کی دعوت و ارشاد میں مصروفِ عمل ہیں۔راولپنڈی کے بہت سے لوگ تقلیدی شکنجوں اور شرکیہ بندھنوں سے آزاد ہو کر قرآن و حدیث کی شفاف روشنی سے منور ہوئے،ان میں مولانا محمد مسکین اور مولوی بہادر بیگ جیسے دلیر اور مجاہدانہ کردار کے علما بھی ہیں،جو مولانا غلام اﷲ خان کے شاگردوں میں سے تھے،لیکن پھر حافظ صاحب کی تبلیغ و تفہیم سے اہلِ حدیث ہوئے۔مولوی بہادر بیگ عوامی مبلغ تھے اور مولانا مسکین بارعب اور وجیہ عالمِ دین تھے،وہ حافظ صاحب کے ماتحت مدرسہ تدریس القرآن والحدیث میں ساری زندگی معقولات کے مدرس رہے۔ حافظ صاحب کی مہمان نوازی اور وسیع الظرفی بھی مثالی تھی۔مسجد سے ملحقہ ان کے حجرے میں اکثر آئے گئے مہمان دیکھے جاتے۔مدرسے کے نائب منتظم ایک مردِ باصفا مولوی محمد دین (ہمارے دوست مولانا عبدالرزاق آف مانچسٹر برطانیہ کے والد مرحوم) بھی اساتذہ و طلبا کی ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور مہمانوں کے لیے اکل و شرب مہیا کرنے میں مصروف رہتے۔ حضرت مولانا معین الدین لکھوی مدظلہ العالی کے ابتدائی دورِ امارت میں جماعتی دستور میں اصلاح و اضافے کے لیے ایک دستور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،جس کے کنوینیر حضرت حافظ ذبیح صاحب تھے۔دوسرے ارکان میں مولانا محمد ابراہم کمیر پوری،مولانا حکم محمود احمد گوجرانوالہ،پروفیسر قاضی مقبول احمد اور ان سطور کا راقم تھا۔دستور کمیٹی کے زیادہ تر اجلاس حضرت حافظ صاحب کے حجرہ مبارکہ میں ہوتے رہے،