کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 107
اور پنڈال کے آخر تک سامعین ہمہ تن گوش اور مسحور ہو رہے تھے۔ حضرت حافظ صاحب جراَت مند اور کامیاب مناظر بھی تھے،جس کا سبب ان کا وسیع مطالعہ تھا۔دیر کی بات ہے کہ یہاں فیصل آباد میں مولوی سردار احمد کے داماد مفتی نواب دین پرانی غلہ منڈی میں خطیب تھے،جو اپنے ایک بریلوی مرید کی معرفت میرے والد صاحب سے مسائل کی چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے تھے۔ہماری دکان گول کریانہ بازار میں تھی،جہاں حافظ محمد اسماعیل ذبیح تشریف فرما تھے،اسی مشترکہ دوست کی معرفت والد صاحب نے اگلے روز اپنی دکان ہی پر مفتی نواب دین سے حافظ صاحب سے مناظرے کا وقت طے کر لیا۔حافظ ذبیح صاحب نے مسئلہ حاضر ناظر اور علمِ غیب پر جب اُن سے بات چیت کا آغاز کیا تو مفتی صاحب کا رنگ اُڑ گیا،وہ بہت سی کتابیں بھی ہمراہ لے کر آئے تھے،انہی کی کتابوں اور مولانا احمد رضا خان کی تفسیر سے جب حافظ صاحب نے حوالے پیش کیے تو مفتی صاحب آئیں بائیں شائیں اور شور کرتے ہوئے بھاگ جانے پر مجبور ہو گئے۔ حضرت حافظ صاحب بڑے رونقی اور مجلسی انسان تھے۔راولپنڈی میں امیرِ جمعیت چوہدری محمد یعقوب،سیکرٹری شیخ بشیر احمد،شیخ معراج دین،حاجی محمد شفیع اور حاجی محمد یوسف رحمہم اللہ کے ساتھ دو چار روز بعد کھانے یا چائے پر مجلسیں آراستہ ہوتیں،گپ شپ اور مقامی و ملکی و جماعت گفتگو رہتی۔بعض اوقات یہ ہم مشرب حضرات جنرل ایوب خان کے تبدیل کردہ نئے دار الخلافہ اسلام آباد کی تعمیرِ نو اور آباد کاری دیکھنے کے لیے نکل جاتے،اس طرح باہم مذاکرات اور سیر و تفریح کے مواقع ہوتے رہتے۔بیشتر مرتبہ ان سطور کا راقم بھی ان محفلوں سے استفادہ کرتا۔یہ موقعے گرمیوں کے موسم میں پہاڑی علاقوں کے تبلیغی پروگراموں یا پنڈی میں شادیوں پر آتے جاتے میسر آ جاتے۔