کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 106
کانفرنس منعقد ہوئی،جس کی صدارت خان بہادر عبدالعزیز سابق چیف جسٹس فرید کوٹ نے کی تھی،جو اہلِ حدیث خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور بوریوالہ میں رہایش پذیر تھے۔کئی سال پیشتر ہمارے بزرگ عالمِ دین مولانا محمد عبداﷲ گورداسپوری نے بوریوالہ میں تین روزہ کانفرنس منعقد کی تھی،تینوں روز قیام و طعام کا اہتمام انہی خان بہادر کے قلعہ نما مکان پر تھا۔لاہور کانفرنس جس کا ذکر کیا جا رہا ہے،اس کے صدر استقبالیہ حاجی محمد اسحاق حنیف ناظم نشر و اشاعت مرکزیہ تھے۔
ہفتے کی رات کے اجلاس میں حضرت حافظ صاحب ذبیح دھواں دھار تقریر فرما رہے تھے،گویا وہ اپنی زور دار خطابت کے دریا بہا رہے تھے کہ معروف دیوبندی مقرر سید عنایت اﷲ شاہ بخاری کانفرنس کی آب و تاب دیکھنے کے لیے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ہمارے اکابر بڑے وسیع الظرف تھے،مولانا غزنوی نے انھیں دیکھتے ہی عزت و اکرام سے اپنے قریب بٹھا لیا اور چند منٹ بعد حافظ ذبیح صاحب سے تقریر مختصر کر دینے کا اشارہ فرمایا۔
حافظ صاحب کے تقریر ختم کر دینے پر خود مولانا غزنوی نے شاہ صاحب کا مائیک پر آکر خیر مقدم کیا اور تقریر کی دعوت بھی دی۔شاہ صاحب کا موضوعِ سخن اکثر شرک و بدعات کی تردید ہوا کرتا تھا،چنانچہ انھوں نے حافظ ذبیح صاحب کے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے شیریں اندازِ بیان سے تقریر فرمائی،مگر دیکھا جا رہا تھا کہ جس طرح حافظ ذبیح صاحب مجمعے پر چھائے ہوئے تھے اور عوام جس طرح ان کی تقریر سے متاثر و محظوظ ہو رہے تھے،وہ تاثرات اور ماحول باقی نہ رہا۔
یاد پڑتا ہے کہ حضرت حافظ صاحب توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ الوہیت میں فرق بیان کرتے ہوئے قرآنی آیات اور احادیثِ مبارکہ کا انبار لگاتے چلے جا رہے تھے