کتاب: ہمارے اسلاف - صفحہ 105
نمایندے ہیں۔صوبہ سرحد تک کے پہاڑی علاقوں اور آزاد کشمیر کے دور افتادہ اضلاع میں آپ کی تبلیغی تگ و تاز کا دائرہ وسیع ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ پنڈی چھوڑنے کے بعد کسی دوسری جگہ کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ آپ کو زیادہ احترام دیں گے؟ بریلوی اور دیوبندی علما نے تو ان باتوں کا حل نکالا ہوا ہے کہ بیعت لے لو،تاکہ یہ لوگ ہمیشہ کے لیے تابع رہیں،ہمیں تو بہرحال جماعتوں اور انجمنوں کے ساتھ ایسے ہی گزارا کرنا چاہیے۔آپ کو بھی پنڈی کو خیرباد نہیں کہنا چاہیے۔‘‘ حافظ صاحب نے فرمایا کہ استاذ گرامی قدر کے اس جوابی مکتوب کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ میرا جنازہ پنڈی ہی سے اٹھے گا،چنانچہ وقت نے ثابت کر دیا کہ ایسا ہی ہوا۔دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے یہ اسلاف دعوت و تبلیغ اور دینِ حنیف کی اشاعت و ترویج کے لیے کس قدر حوصلہ اور برداشت رکھتے ہیں۔ حضرت حافظ صاحب خوش گفتار،خوش لباس اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔سرخ و سفید چہرہ،سر پر کلاہ کے اوپر سلیٹی و نیلگوں پگڑی،اچکن شلوار اور ہاتھ میں خوب صورت چھڑی لیے،وہ علم و فضل کے حسین امتزاج تھے۔اسٹیج پر جب جوش و جذبے سے تقریر کرتے ہوئے اپنے مخصوص لہجے میں آیاتِ مبارکہ کی تلاوت فرماتے تو ان کی مترنم آواز سماں باندھ دیتی ۔گرچہ ان کا عمومی موضوع توحیدِ باری تعالیٰ ہوتا،مگر وہ ہر موضوع پر خوب عبور رکھتے تھے۔حجیتِ حدیث اور سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات پر انھیں کئی بار ہم نے سنا۔وہ اردو میں تقریر کرتے،لیکن ان کا طریقِ کلام ایسا سلیس تھا کہ بات لوگوں کے دلوں میں اترتی چلی جاتی اور اپنا اثر دکھاتی۔ نومبر 1962ء میں موچی دروازہ لاہور میں مرکزی جمعیت کی عظیم الشان