کتاب: حکمران بیور و کریسی اور عوام - صفحہ 237
خدا سے خوش اور خدا نے ان کے لیے باغ تیار کررکھے ہیں جنکے تلے نہریں بہہ رہی ہونگی اور یہ ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ پس ہر مسلمان کافرض عین ہے کہ حسب استطاعت کوشش کرے اور جو شخص ولایت و حکومت پر مامور ہے اس سے وہ طاعت خدا اور اقامت دین اور مصالح مسلمین کی خدمات لے اور ولایت و حکومت کو حتی الامکان مقصد حیات سمجھ کر اس کو مضبوط کرے اور تاامکان محرمات سے بچے اور بچائے جس سے وہ عاجز اور قاصر ہے اس کا مؤاخذہ نہیں ہے، ابرابر نیکوکار کو ولی امر بنانا امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بڑی خیرو برکت ہے بمقابلہ فجار و فاسق کو ولی الامر بنانے کے اور جو سلطنت و ریاست امارت و سیاست ولایت کے ذریعہ اقامت دین جہاد فی سبیل اللہ سے عاجز و قاصر ہے وہ اسی قدر خدمات انجام دے جس پر وہ قادر ہو خلوص قلب سے قوم کو نصیحت کرے اور امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محبت اور خیر وبھلائی کی دعا کرے اور جو خیر وبھلائی ا سکے امکان میں ہے کرتا رہے کیونکہ خدا اس چیز کا مکلف نہیں گردانتا جس سے وہ عاجز و قاصر ہے دین کا قیام کتاب اللہ سے ہے جو ہادی ہے اور حدیث سے ہے جو ناصر و مددگار ہے ان دو کو راہ نما ، راہبر بنا کر نصرت الٰہی حاصل کرسکتے ہیں جیسا کہ خود اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔ پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن حکیم ، اور حدیث خیر الانام کو سب پر مقدم سمجھے اور اللہ تعالیٰ ہی سے اعانت و امداد چاہے اور خیر طلب کرتا رہے اور پھر دنیا تو اسی لیے ہے کہ اس کے ذریعہ دین کی خدمت کرے ، جیسا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا ہے : یَاابْنَ اٰدَمَ اَنْتَ مُحْتَاجٌ اِلٰی نَصِیْبِکَ مِنَ الدُّنْیَا وَ اَنْتَ اِلٰی نَصِیْبَکَ مِنَ الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْاٰخِرَۃِ اَحْوَجُ فَاِنْ بَدَاْتَ بِنَصِیْبِکَ مِنَ الْاٰخِرَۃِ وَ بِنَصِیْبِکَ مِنَ الدُّنْیَا فَاَنْتَظِمُھَا اِنْتَظَامًا وَّ اِنْ بَدَأْتَ بِنَصِیْبِکَ مِنَ الدُّنْیَا فَاتَکَ نَصِیْبُکَ مِنَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَنْتَ مِنَ الدُّنْیَا عَلٰی خَطَرٍ اے آدم رحمہ اللہ کے بیٹے تو اپنی دنیا ، اور اپنی آخرت میں اپنے حصے کامحتاج ہے اور آخرت کے نصیبے کا زیادہ محتاج ہے تو تو اپنی آخرت کے حصے سے شروع کر اور دنیا کے حصے کا انتظام کر لے اور اگر تو نے اپنی دنیا کے حصے سے شروع کیاتو آخرت کے حصے کو فوت کر دے گا اور دنیا